بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

دبئی میں ایک چھوٹی سی غلطی نے ان دونوں دوستوں کو 11 کروڑ روپے کا مالک بنادیا، کیا غلطی تھی؟ جان کر آپ کو بھی انکی قسمت پر رشک ہو گا

datetime 12  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قسمت کبھی یوں بھی مہربان ہوتی ہے کہ انسان کو یقین ہی نہیں آتا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ اور ایسا ہی بھارت سے تعلق رکھنے والے نوجوان پنٹو پال تھومانا اور اس کے دوست فرانسس سباسچین کے ساتھ بھی ہوا ہے ۔ دونوں دوست اپنی پسند کا لاٹری نمبر نہ ملنے پر ایک اور نمبر خرید بیٹھے لیکن جب قرعہ اندازی ہوئی تو دونوں کو پتہ چلا کہ وہ

10لاکھ ڈالر (تقریباََ ساڑھے گیارہ کروڑ پاکستانی روپے)کے مالک بن چکے ہیں۔ عرب اخبار کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ پنٹو پال اور اس کے دوست فرانسس سباسچین نے لاٹری کا ٹکٹ خریدنے کا فیصلہ کیا لیکن کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے ان کی پسند کا نمبر نہیں نکلا۔ دوسری ٹرائی پر 2465 نمبر نکلا جو انہیں پسند تو نا آیا البتہ بادل ناخواستہ خرید لیا۔ بعد ازاں وہ اپنے فیصلے کو غلط قرار دیتے رہے لیکن ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہی ’غلطی‘ ان کی زندگی بدلنے والی تھی۔ گزشتہ روز جب پنٹو کو لاٹری جیتنے کی خوشخبری سنانے کے لئے کال کی گئی تو وہ سمجھے کہ ان سے مذاق کیا جارہا ہے۔ پنٹو نے بتایا ”میں سمجھا کہ میرا کوئی دوست کال کرکے میرے ساتھ شرارت کررہا ہے لیکن پھر مجھے کئی اور لوگوں کے میسج اور کال آنا شروع ہوگئیں۔ ان لوگوں نے یہ خبر پہلے ہی سن لی تھی۔“ فرانسس کا کہنا تھا کہ ان کی فیملی کو کافی مالی مشکلات کا سامنا تھا جو اب بالکل ختم ہوگئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی انہوں نے فیصلہ نہیں کیا کہ وہ اس رقم کا کیا کریں گے تاہم وہ یہ جانتے ہیں کہ اپنے دو بچوں کی اچھی تعلیم ان کی سب سے پہلی ترجیح ہوگی۔ پنٹو اور فرانسس بچپن کے دوست ہیں اور ریات کیرالہ میں بھی ہمسائے تھے جبکہ امارات میں بھی اکٹھے کام کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…