پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

برطانیہ میں اسلام قبول کرنےوالے ایک لاکھ سے زائد

datetime 8  جنوری‬‮  2018 |

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی جبکہ مسلمان ہونے والی آبادی کا 66 فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔ برطانیہ میں کثیرالمذہبی تنظیم فیتھ میٹرز نے ایک طویل سروے کے بعد کہا ہے کہ برطانیہ میں اسلام تیزی

سے فروغ پارہا ہے اور اسے قبول کرنے والے خواتین و حضرات کے مطابق اسلام پر عمل پیرا رہتے ہوئے برطانیہ میں رہا جاسکتا ہے کیونکہ یہ معاشرے سے مکمل مطابقت رکھتا ہے۔ فیتھ میٹرز نے کہا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی جانب سے اسلام قبول کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ وہ مغربی طرزِ زندگی کے خلاف ہیں بلکہ عام نارمل افراد دین کی جانب مائل ہورہے ہیں اور وہ اسلام کو مغربی معاشرے اور اقدار کے ساتھ ہم آہنگ بھی سمجھتے ہیں۔سروے کے مطابق گزشتہ 12 ماہ میں 5200 افراد نے اسلام قبول کیا جن میں لندن کے لوگوں کی تعداد 1400 ہے۔ اسلام لانے والے2تہائی افراد میں سفید فام خواتین شامل ہیں جن کی اوسط عمر 27 سال ہے۔اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد بعض افراد نے دہشت گردی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں نک ریئلی بھی شامل ہے جس نے کیل بم سے برسٹل کے ایک ریستوران کو اڑانے کی کوشش کی۔ دوسری جانب جوتے میں بم چھپانے والے رچرڈ ریڈ اور 7 جولائی کے بم دھماکوں میں حصہ لینے والے گرمین لنڈسے بھی برطانوی نومسلم تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام قبول کرنے والے افراد کی بہت قلیل تعداد ہی شدت پسندی کی جانب مائل ہے جنہیں ایک چھوٹی اقلیت قرار دیا جاسکتا ہے، تاہم سوان سی یونیورسٹی کی جانب سے کیے گئے اس سروے میں نومسلم خواتین و حضرات نے برطانوی ماحول کے منفی پہلوں پر بھی بات کی تھی۔ان کے نزدیک

شراب نوشی، منشیات، اخلاقی گراوٹ، جنسی بے راہ روی اور خریداری و مادہ پرستی کا جنون برطانیہ کے تاریک پہلو ہیں۔ اسلام قبول کرنے والے ہر4 میں سے ایک نے اعتراف کیا ہے کہ ایک باعمل مسلمان برطانوی معاشرے سے فطری طور پر متصادم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…