اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

طوطے انٹرنیٹ کے دشمن بن گئے ،سست رفتار کی اصل وجہ تو اب سامنے آئی

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کینبرا(این این آئی)آسٹریلیا کے ملٹی ملین ڈالر براڈ بینڈ نیٹ ورک کو بڑی چونچ والے طوطوں کی جانب سے حملوں کا سامنا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق دی نیشنل براڈ بینڈ نیٹ ورک (این بی این) نے کہاکہ طوطوں نے جن تاروں کو چبایا ہے ان کو ٹھیک کرنے پر اب تک دسیوں ہزاروں ڈالر خرچ کیے ہیں۔خیال رہے کہ آسٹریلین براڈ بینڈ پر اس کی سست رفتاری کی وجہ سے پہلے ہی تنقید کی جا رہی ہے۔ایک حالیہ رپورٹ

کے مطابق یہ انٹرنیٹ کی رفتار کے لیے دنیا میں 50 ویں نمبر پر ہے۔این بی بی کا تخمینہ ہے کہ اس خرابی کو دور کرنے کے لیے آنے والی لاگت تیزی سے بڑھ جائے گی کیونکہ تاروں کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔آسٹریلیا میں انٹرنیٹ کی رفتار کو بہتر بنانے کی کوشش میں جو فی الحال بہت سے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں 11.1 میگا بیٹس فی سیکنڈ پر چلتا ہے ایک قومی ٹیلی مواصلات کے بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جو سنہ 2021 میں مکمل ہو گا۔سائٹس پرجانے والے انجنیئروں کا کہنا تھاکہ تاروں کو بری طرح سے چبایا گیا ہے۔اور یہ کام بڑی چونچ والے طوطوں کا ہے جو عام طور پر پھل، گری، لکڑی یا درختوں کے چھال کھاتے ہیں تاریں نہیں۔این بی این کا کہنا تھاکہ انھیں پاور اور فائیبر تاریں بدلنی پڑیں اور ہر بار ان پر دسیویں ہزاروں ڈالر خرچ ہوئے۔ کمپنی کے مطابق وہ اب تک اس کام پر اسی ہزار آسٹریلین ڈالرز خرچ کر چکے ہیں۔جانوروں کے رویے پر کام کرنے والی گیسیلا کپلان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا طوطیاس طرح تاریں نہیں کاٹتے غالباً تاروں کی ساخت یا رنگ نے انہیں متوجہ کیا ہوگا۔وہ مسلسل اپنی چونچوں کو تیز کر رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں اپنے سامنے آنے والی کسی بھی چیز پر حملہ کریں گے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…