اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

جہاز میں اس سیٹ پر بیٹھنے والے افراد حادثے کے دوران بچ سکتے ہیں، ایسی تحریر جسے پڑھ کر ہر کوئی آئندہ اس سیٹ کا ہی ٹکٹ خریدے گا

datetime 13  اکتوبر‬‮  2017 |

ہوائی جہازوں اور فضائی انڈسٹری سے کئی اور بھی ایسے چونکا دینے والے حقائق جڑے ہیں جن سے عام انسان ناواقف ہیں۔روس میں بننے والا مریا اینٹونوو دنیا کا سب سے بڑا سامان بردار طیارہ ہے اس کا مکمل سائز تقریباََ ایک فٹبال گرائونڈ جتنا ہوتا ہے۔ اس کو بنانے کے پیچھے وجہ یہ تھی کہ سپیس شٹل کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بحفاظت اور تیز رفتار طریقے سے

منتقل کیا جا سکے۔ آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ دنیا کا سب سے تیزرفتار طیارہ بلیک برڈ ایس آر 71ہے اور اس کی انتہائی رفتار 2193میل فی گھنٹہ ہے۔دنیا کا سب سے بڑا مسافر طیارہ ائیر بس اے 380 ہے۔ یہ ڈبل ڈیکر اور 4 جیٹ انجن کا حامل طیارہ ہے اور اس کی پہلی فلائٹ 27 اپریل 2005 کو تھی۔دنیا کا سب سے چھوٹا طیارہ Bede BD-5 ہے۔ اس کے پر چودہ سے اکیس فٹ چوڑے ہیں جبکہ اس کا وزن صرف189 کلو ہے۔ایک تحقیق کے مطابق ایسے مسافر جو جہاز کی دم میں بیٹھتے ہیں ،کسی بھی حادثے کی صورت میں ان لوگوں کے مقابلے میں چالیس فیصد زیادہ محفوظ ہوتے ہیں جو جہاز میں سب سے آگے یا پہلی قطار میں بیٹھے ہوتے ہیں۔فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن ( FAA ) کے قوانین کے مطابق ہر جہاز میں مسافروں کو نوے سیکنڈ کے اندر جہاز سے باہر نکالنے کی صلاحیت موجود ہونی چاہیے کیونکہ اگر کسی وجہ سے آگ لگ جائے تو اسے پورے جہاز تک پھیلنے میں نوے سیکنڈ کا وقت لگتا ہے۔زیادہ تر ائیر لائن پائلٹوں کو صرف اس وقت کی ادائیگی کرتی ہے جب ہوائی سفر پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ زمین پر موجود ان کے وقت کی کوئی ادائیگی نہیں کی جاتی۔آپ جہاز میں پارہ اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتے کیونکہ پارہ ( Mercury ) دھات جہاز کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوتی ہے۔

اس کی تھوڑی سی مقدار جہاز کی المونیم باڈی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے کیونکہ زیادہ تر جہاز المونیم سے تیار کردہ ہوتے ہیں۔آب و ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اضافے کی وجہ سے جہازوں کو لگنے والے جھٹکوں کے واقعات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل قریب میں ایسے واقعات میں مزید اضافہ ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…