جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

48 سال سے اپنے جیب خرچ سے ناقابل یقین کارنامہ سر انجام دینے والا مسلمان بزرگ جس نے سب کے دل جیت لئے!!

datetime 12  اکتوبر‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ڈھاکا(مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلہ دیش کو ماحولیاتی آلودگی سے بچانے کے لیے 48 سال سے باہمت رکشا ڈرائیور روزانہ اپنی جیب سے ایک درخت خرید کر لگا رہا ہے اور وہ اب تک 50 ہزار سے زیادہ درخت لگا چکا ہے۔تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے عبد الصمد نامی شخص نے پہلا درخت 12 سال میں عمر میں لگایا اور اُس دن سے وہ روزانہ اپنی جیب سے ایک پودا خرید کر لگا رہے ہیں۔

عبدالصمد نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں روزانہ اپنی جیب سے ایک پودا خرید کر سرکاری اراضی پر لگاتا ہوں تاکہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچائےاور کسی دن ایسا نہ کرسکوں تو مجھے نیند نہیں آتی‘‘۔انہوں نے کہا کہ ’’شجر کاری کی اہمیت کو جانتے ہوئے میں روزانہ کی بنیاد پر متعلقہ محکمے یا پھر نرسری سے ایک پودا خریدتا ہوں اور پھر اُس کاباقاعدگی سے خیال بھی رکھتا ہوں اور درختوں کو روزانہ پانی بھی دیتا ہوں‘‘۔عبدالصمد کا کہنا ہے کہ ’’سائیکل رکشا چلانے کی وجہ سے کمائی زیادہ نہیں ہوتی مگر کاروبار زیادہ ہو یا کم روزانہ پودا خرید کر لگانے کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا ہے، جس روز کمائی کم ہو اور گھر واپس آؤں تو اہلیہ سے اس بات پر جھگڑا بھی ہوتا ہے‘‘۔سائیکل رکشہ چلانے والے عبد الصمد نے مزید کہا کہ ’’میں جانوروں سمیت اللہ کی تمام مخلوق سے بے پناہ محبت کرتا ہوں مگر درخت مجھے سب سے زیادہ عزیز ہیں اور اگر میرے سامنے درختوں ، پودوں کو کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو اُن سے جھگڑا بھی کرتا ہوں۔بنگلہ دیش کے شہر فرید پور سے تعلق رکھنے والے عبد الصمد 12 سال کی عمر سے پودے لگا رہے ہیں اور اب تک وہ 50 ہزار سے زائد پودے لگا چکے ہیں، اُن کے ہاتھ سے لگے ہوئے کئی پودے اب تناور درخت بن چکے ہیں جن سے انسان اور حیوان دونوں ہی فیض یاب ہورہے ہیں۔

عبد الصمد کو بنگلہ دیش میں درختوں کا دوست کہا جاتا ہے اور کئی لوگ اس معاملے میں اُن کی تقلید بھی کرتے ہیں، حکومت اور این جی او کی جانب سے سے حال ہی میں عبد الصمد کو 1200 ڈالر بطور انعام تحفے میں دیے گئے تاکہ وہ اپنے مشن کو مزید اچھے طریقے سے انجام دے سکیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…