اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

48 سال سے اپنے جیب خرچ سے ناقابل یقین کارنامہ سر انجام دینے والا مسلمان بزرگ جس نے سب کے دل جیت لئے!!

datetime 12  اکتوبر‬‮  2017 |

ڈھاکا(مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلہ دیش کو ماحولیاتی آلودگی سے بچانے کے لیے 48 سال سے باہمت رکشا ڈرائیور روزانہ اپنی جیب سے ایک درخت خرید کر لگا رہا ہے اور وہ اب تک 50 ہزار سے زیادہ درخت لگا چکا ہے۔تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے عبد الصمد نامی شخص نے پہلا درخت 12 سال میں عمر میں لگایا اور اُس دن سے وہ روزانہ اپنی جیب سے ایک پودا خرید کر لگا رہے ہیں۔

عبدالصمد نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں روزانہ اپنی جیب سے ایک پودا خرید کر سرکاری اراضی پر لگاتا ہوں تاکہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچائےاور کسی دن ایسا نہ کرسکوں تو مجھے نیند نہیں آتی‘‘۔انہوں نے کہا کہ ’’شجر کاری کی اہمیت کو جانتے ہوئے میں روزانہ کی بنیاد پر متعلقہ محکمے یا پھر نرسری سے ایک پودا خریدتا ہوں اور پھر اُس کاباقاعدگی سے خیال بھی رکھتا ہوں اور درختوں کو روزانہ پانی بھی دیتا ہوں‘‘۔عبدالصمد کا کہنا ہے کہ ’’سائیکل رکشا چلانے کی وجہ سے کمائی زیادہ نہیں ہوتی مگر کاروبار زیادہ ہو یا کم روزانہ پودا خرید کر لگانے کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا ہے، جس روز کمائی کم ہو اور گھر واپس آؤں تو اہلیہ سے اس بات پر جھگڑا بھی ہوتا ہے‘‘۔سائیکل رکشہ چلانے والے عبد الصمد نے مزید کہا کہ ’’میں جانوروں سمیت اللہ کی تمام مخلوق سے بے پناہ محبت کرتا ہوں مگر درخت مجھے سب سے زیادہ عزیز ہیں اور اگر میرے سامنے درختوں ، پودوں کو کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو اُن سے جھگڑا بھی کرتا ہوں۔بنگلہ دیش کے شہر فرید پور سے تعلق رکھنے والے عبد الصمد 12 سال کی عمر سے پودے لگا رہے ہیں اور اب تک وہ 50 ہزار سے زائد پودے لگا چکے ہیں، اُن کے ہاتھ سے لگے ہوئے کئی پودے اب تناور درخت بن چکے ہیں جن سے انسان اور حیوان دونوں ہی فیض یاب ہورہے ہیں۔

عبد الصمد کو بنگلہ دیش میں درختوں کا دوست کہا جاتا ہے اور کئی لوگ اس معاملے میں اُن کی تقلید بھی کرتے ہیں، حکومت اور این جی او کی جانب سے سے حال ہی میں عبد الصمد کو 1200 ڈالر بطور انعام تحفے میں دیے گئے تاکہ وہ اپنے مشن کو مزید اچھے طریقے سے انجام دے سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…