پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

آج سے پہلے آپ صرف آب زم زم کو پینے کیلئے ہی استعمال کرتے ہونگے مگر اس کے بارے میں کیا نیا فتویٰ آگیا ہے ؟ اب اس مقدس پانی سے کیا کام کیا جا سکے گا ؟ حیران کن انکشاف

datetime 28  مئی‬‮  2017 |

کولالمپور(این این آئی)زم زم کے پانی کو اب تک صرف پینے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے، ملائیشیا کے ایک مصور اور آرٹسٹ نے مقدس پانی کو اپنے فن کے فروغ کے لیے پہلی بار استعمال کیا ہے۔

عرب ٹی وی کے مطابق ملائیشین فن کار عبدالحلیم بن عمرنے اپنے فن مصوری اور خطاطی کے لیے زمزم کے استعمال کا شرعی جواز معلوم کیا۔ علماء نے بتایا کہ زمزم کو خطاطی اور مقدس مقامات کی پینٹنگ کے لیے استعمال کرنا جائز ہے۔ اس کے بعد اس نے اپنے دست ہنر سے زمزم سے تیار کردہ روشنائی سے خانہ کعبہ، غلاف کعبہ، ملتزم، مسجد نبوی اور دیگر ان گنت مقدس مقامات کی دلفریب پینٹنگز تیار کی جن کا چار دانگ عالم میں چرچا ہے۔ عبدالحلیم بن عمر نے بتایا کہ اس نے یہ کام پانچ سال قبل شروع کیا۔ زمزم کو پینٹنگز کے لیے استعمال میں لانے سے قبل مقامی علماء سے فتویٰ حاصل کیا۔ علماء نے اسے جائز قرار دیا۔ اس کے بعد بن عمر نے زمزم سے مقدس مقامات کی مصوری اور خطاطی شروع کی۔ اس نے اپنی تیار کردہ دلفریب پینٹنگز ملائیشیا مسجد قبا کے باہر عام لوگوں کے سامنے پیش کیں جنہیں غیرمعمولی حد تک پسند کیاگیا۔عبدالحلیم بن عمر نے کہا کہ میں جب بھی زم زم سے کسی پینٹنگ پر کچھ لکھتا ہوں تو اللہ کا نام بار بار لیتا ہوں۔ میں نے ایک پینٹنگ میں لفظ ’اللہ‘ جلالہ کو 40 لاکھ بار لکھا اور اس پینٹنگ کو ملک بھر میں سب سے زیادہ پسند کیا گیا۔ملائیشین آرٹسٹ کا کہنا تھا کہ اس کا اگلا ہدف زم زم سے قرآن پاک لکھنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میری خواہش ہے کہ میں خانہ کعبہ کو بیت الحرام سے براہ راست سامنے دیکھ کر زمزم سے اس کی پینٹنگ بناؤں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…