ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

عمارتوں کو مضبوط بنانے کیلئے ’’بیکٹیریا ‘‘ سے مدد طلب کر لی گئی ’’ذہین سیمنٹ ‘‘ میں کیا استعمال کیا جائے گا ؟ جان کر حیران رہ جائیں گے

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

مشی گن(آن لائن) برطانوی ماہرین نے جرثوموں (بیکٹیریا) سے بھرپور ایسی مٹی تیار کرلی ہے جو دباؤ بڑھنے پر خود کو معمول سے کہیں زیادہ مضبوط کرلیتی ہے اور یوں کسی عمارت کو منہدم ہونے سے بچاسکتی ہے۔اس مٹی کی تفصیلات جسے ’’بایوسیمنٹ‘‘ کا نام دیا گیا ہے، این آربر (مشی گن) میں ’’اکیڈیا 2016‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک عالمی کانفرنس میں پیش کی گئیں۔ اسے نیوکیسل یونیورسٹی، برطانیہ میں ’’بیسیلا فلا‘‘ نامی ریسرچ گروپ کے ماہرین نے تیار کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں ماہرین نے عام جرثوموں میں ایسے 122 جین شناخت کیے جو دباؤ کے ایک خاص حد سے بڑھنے پر مٹی کو مضبوط بنانے والے مادے خارج کرتے ہیں۔ یہ جین الگ کرکے مٹی میں پائے جانے والے جرثوموں کا حصہ بنادیئے گئے۔ابتدائی تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ جیسے ہی مٹی پر پڑنے والا دباؤ کرہ ہوائی کے دباؤ سے 10 گنا زیادہ ہوتا ہے یہ جینیاتی ترمیم شدہ جرثومے فوراً ہی ایسے مادوں کا اخراج شروع کردیتے ہیں جو سیمنٹ کا کام کرتے ہوئے مٹی کو مضبوط بناتے ہیں اور یوں عمارت کی کمزور پڑتی ہوئی بنیادوں کو سہارا دیتے ہیں۔فی الحال اس منصوبے کو تجارتی مرحلے تک پہنچانے کے لیے بڑے پیمانے کی آزمائشیں درکار ہیں اور اگر یہ تجربات کامیابی سے ہمکنار ہوئے تو امید کی جاسکتی ہے کہ تعمیراتی صنعت میں ’’بایوسیمنٹ‘‘ کا اضافہ بھی ہوجائے گا جو عام سیمنٹ کے مقابلے میں نہ صرف عمارتوں کی دیواروں اور چھتوں کو دراڑوں سے محفوظ رکھ سکے گا بلکہ بنیادوں کو بھی کمزور پڑنے نہیں دے گا.

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…