ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

خوش قسمتی کی انتہا ۔۔ سزائے موت کا مجرم ساتویں بار بچ گیا ۔۔۔ آخر ماجرا کیا ہے ؟

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

واشنگٹن (آن لائن) امریکی عدالت نے مجرم کو سنائی گئی سزائے موت پر عمل درآمد وقت مقررہ سے دو گھنٹے قبل موخر کردیا۔ یوں ملزم سزائے موت پرعمل درآمد میں ساتویں بار بچ گیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست امابا سے تعلق رکھنے والے مجرم ٹومس آرتھر کو دی گئی سزائے موت پر مقامی وقت کے مطابق جمعرات کو دن گیارہ بجے عمل درآمد کیا جانا تھا مگر عدالت نے 9 بجے سزا پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر اختلاف کے باعث اس پرعمل درآمد روک دیا۔عدالت نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ پہلے اس بات کا تعین کیا جائے کہ ملزم کی سزا پرعمل درآمد کیسے کیا جائے کیونکہ ریاست الامبا میں قتل کے ملزم کی سزائے موت کے لیے زہریلے انجیکشن کا طریقہ اپنایا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی بعض تنظیموں اورملزم کے وکیل نے زہریلے انجیکشن سے سزائے موت کو غیرانسانی قرار دیا تھا۔ خود ملزم نے بھی اپنی سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے گولی مارنے کو زیادہ موزوں قرار دیا ہے۔امریکی اخبار کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب مجرم کی اس کے بیٹے سے بات کرائی گئی تھی۔ جمعرات کی صبح ٹومس آرتھر نے ناشتہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔ملزم کے وکیل کا کہنا ہے کہ امریکا کی وفاقی عدالت رواں سال جنوری میں زہریلے انجیکشن سے سزائے موت کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔ اس کے بعد اس طریقے سے کسی کو موت کی نیند سلانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ٹومس آرتھر پرالزام ہے کہ اس نیفروری 1982ئ￿ کو ایک انجینیر ٹروی ویکر کو اس کے گھر میں گھس کر سوتے ہوئے اسے گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔ آرتھر کے مقتول کی بیوی کے ساتھ مراسم اس قتل کی وجہ بنے۔مقتول کی بیوہ نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے قاتل کو انشورینس پالیسی کے تحت 10 ہزار ڈالر کی رقم ادا کی تھی، جب کہ لائف انشورینس کی کل رقم 90 ہزار ڈالر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…