ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

مسلم دنیا کاایسا حکمران جس کے کام جان کرآپ کودکھ ہوگا

datetime 19  مئی‬‮  2016 |

بندر سری بیگاوان (نیوزڈیسک) مسلم دنیا کاایسا حکمرانجس کے کام جان کرآپ کودکھ ہوگامسلمانوں کی حالت زار ساری دنیا میں مثال بن چکی ہے اور ہر کوئی جانتا ہے کہ مسلمان اقوام کا شمار دنیا کی غریب اور کمزور ترین اقوام میں ہوتا ہے، لیکن دوسری جانب مسلمان قوموں کے حکمرانوں کے عیش و عشرت دیکھیں تو آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں۔ایک ایسے ہی حکمران برونائی کے سلطان حسن البولکیا ہیں کہ جن کی دولت، زروجواہرات اور مال و متاع حساب سے باہر ہے۔ یہ صاحب اس لحاظ سے اور بھی منفرد ہیں کہ ان کا مہنگی ترین کاروں کا شوق اس قدر مہنگا ہے کہ کئی غریب ممالک کی کل دولت کے برابر رقم ان کی کاروں پر خرچ ہوچکی ہے۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ ان ہزاروں کاروں کو خریدنے کیلئے اربوں ڈالر مغربی ممالک پر لٹائے گئے ہیں۔سلطان آف برونائی دنیا کی مہنگی ترین 7,000 کاروں کے مالک ہیں، جن کی کل مالیت 5ارب ڈالر (تقریباً 5کھرب پاکستانی روپے) سے بھی زائد ہے۔ یہ ہزاروں گاڑیاں کسی عام گیراج میں نہیں بلکہ جہازوں کو کھڑا کرنے کیلئے بنائے گئے خاص ہینگرز میں پارک کی جاتی ہیں اور ان کی دیکھ بھال کیلئے سینکڑوں غیر ملکی ماہرین کو تعینات کیا گیا ہے، جن کے اخراجات مزید کروڑوں ڈالر ہیں۔ سلطان نے اپنی قیمتی کاروں کی خاص دیکھ بھال کیلئے کاریں بنانے والی یورپی کمپنیوں کی خصوصی ٹیمیں تعینات کررکھی ہیں۔
اس حیرتناک کلیکشن میں چند ایسی کاریں بھی ہیں کہ جو دنیا میں کسی اور شخص کے پاس نہیں، کیونکہ انہیں خصوصی طور پر کروڑوں ڈالر کے عوض سلطان آف برونائی کیلئے تیار کیا گیا ہے۔ ایک ہی شخص کی ملکیت 7ہزار کاریں، جن کی مالیت اربوں ڈالر، ایسی مثال دنیا میں اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دنیا بھر میں کروڑوں مسلمان بدترین کسمپرسی کے عالم میں زندگی بسر کرتے ہیں، اور اس وقت کو یاد کرکے اشک بہاتے ہیں کہ جب امیرالمومنینؓ اپنی کمر پر ضرورت کی اشیاء لاد کر رات کی تاریکی میں ضرورت مندوں کے گھروں میں چپکے سے پہنچا آیا کرتے تھے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…