ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

انسانی تاریخ کے سب سے بڑے خزانے کا سراغ مل گیا

datetime 7  دسمبر‬‮  2015 |

بگوٹا(نیوزڈیسک) غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سان خوزے جہاز کئی دہائیوں سے اساطیری حیثیت اختیار کیے ہوئے تھا، جس کا تذکرہ فکشن میں بھی ملتا ہے۔ معروف مصنف گیبریئل گارشیا مارکیز نے اپنے شہرہ آفاق ناول ’لو ان دا ٹائم آف کولیرا‘ میں اس کا ذکر کیا ہے۔ انیس سو اسی کی دہائی میں ایک کمپنی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے جہاز کے سمندر برد ہونے کی جگہ کا تعین کر لیا ہے۔ برسوں تک یہ کمپنی کولمبیا کی حکومت کے ساتھ قانونی رسہ کشی میں شریک رہی۔ تاہم ایک امریکی عدالت نے یہ فیصلہ سنایا کہ جہاز اس جگہ نہیں ہے جس کا دعویٰ اس کمپنی نے کیا تھا، لہٰذا یہ ملکیت کولمبیا کی حکومت کی ٹھہری۔یہ ہسپانوی جہاز تقریبا تین سو سال پہلے اس وقت سمندر میں غرق ہو گیا تھا جب برطانوی افواج نے اس پر حملہ کر دیا تھا۔ اس جہاز کے سراغ لگانے کا اعلان کولمبین صدر خوان مانوئل سانٹوس نے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس جہاز کو ڈھونڈ کر انسانی تاریخ کے سب سے بڑے خزانے کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔ صدر سانٹوس نے یہ بیان کارٹاگینا کے شمالی بندر گاہ میں ان ماہرین کے ہم راہ دیا جنہوں نے اس خزانے کو ڈھونڈنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اندازوں کے مطابق اس جہاز پر لدے خزانے کی مالیت دو بلین ڈالرز ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…