ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ہزاروں سال قبل مردہ ہاتھی کو زندہ کرنے کی کوشش

datetime 24  مارچ‬‮  2015 |

ہارورڈ(نیوز ڈیسک )ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے ساڑھے 4 ہزار سال قبل معدوم ہوجانے والے میمتھ ( بالوں والے ہاتھی) کو دوبارہ زندہ کرنے کی ایک انوکھی کوشش کی ہے جس کے لیے میمتھ کے 14 جین لے کر اسے آج کے ایشیائی ہاتھی میں داخل کیے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ 6 ٹن وزنی قدیم جانور کی کلوننگ میں ایک قدم پیچھے ہیں۔جینیات کے پروفیسر جارج چرچ نے بحرِ آرکٹک ( آرکٹک اوشن) کے ایک جزیرے سے میمتھ کے ایک بہت محفوظ شدہ نمونے سے ڈی این اے نکالا جس کے لیے انہوں نے اس کے 14 جین حاصل کیے اور انہیں آج کے ایشیائی ہاتھی کے جینوم ( ڈی این اے کا مجموعہ) سے جوڑ کر ایک نارمل ڈی این اے میں تبدیل کیا پھر اسے ایک جدید تکنیک کے ذریعے ڈی این اے کو درست طریقے سے ایڈٹ کرکے اسے آج کے ہاتھی کے ساتھ ملایا گیا۔ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اس عمل کےبعد وہ اس 6 ٹن وزنی قدیم جانور کی کلوننگ میں ایک قدم پیچھے ہیں جب کہ ماہرین کو اس برفیلے جزیرے پر ایسے میمتھ بھی ملے ہیں جن پر ہڈیوں کے علاوہ گوشت اور بافتیں (ٹشوز) بھی موجود ہوتے ہیں۔آج کے ہاتھی اور میمتھ میں بہت مماثلت ہے اور ہارورڈ کے ماہرین نے میمتھ کے وہ جین لیے ہیں جو اس کے بالوں، کان کے سائز ، چربی اور ہیموگلوبن تیار کرنے کی ہدایات رکھتے ہیں ان کا خیال ہے کہ ہاتھی کی مادہ سے میمتھ کو جنم دینے کی منزل بہت دور نہیں اسی طرح معدوم ہوجانے والے پیغام لے جانے والے کبوتر اور دیگر جانداروں کو بھی دوبارہ پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔واضح رہے کہ میمتھ آج سے 50 لاکھ سال قبل زمین پر نمودار ہوئے اور تقریباً 3 سے 4 ہزار سال قبل ختم ہوگئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…