ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

اب گھروں کے بجائے پورے کے پورے گاﺅں کر ائے پر دستیاب

datetime 10  مارچ‬‮  2015 |

وسطی یورپ (نیوز ڈیسک )کے ملک ہنگری میں دارالحکومت بڈاپسٹ سے 180کلومیٹر کی دوری پرمیگئیر نامی گاﺅں واقع ہے۔ میگیئر چھوٹا سا مگر خوب صورت گاﺅں ہے جس کے چاروںر اطراف فطرت کی رنگینیاں بکھری ہوئی ہیں۔ کرسٹوف پیجر بیس مکانات پر مشتمل گاﺅں کا میئر ہے۔ گاﺅں کے بیس میں سے محض پانچ گھر آباد ہیں۔ ان میںکل اٹھارہ افراد رہتے ہیں۔ گذشتہ دنوں کرسٹوف کی جانب سے مقامی اخبارات میں اور انٹرنیٹ پر اشتہار شائع ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ اس کا گاﺅں 210000 فورنٹس ( مقامی کرنسی) یومیہ پر کرایے پر دستیاب ہے۔ اشتہار کے مطابق کرایہ دار اس خوب صورت گاو¿ں میں موجود تمام سہولیات استعمال کرنے کے مجاز ہوں گے۔میگئیر کے درمیان سے چار سڑکیں گزرتی ہیں، یہاںمئیر کا دفتر اور ایک ثقافتی مرکز بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ گاﺅں کے سات مکان تمام ضروری سہولیات سے آراستہ کیے گئے ہیں۔میگئیر کو کرایہ پر حاصل کرنے والا ان تمام سہولیات بشمول میئر کا دفتر، ثقافتی مرکز استعمال کرنے کا مجاز ہوگا۔ اس کے علاوہ چھے گھوڑے، دو گائیں، تین بھیڑیں، پولٹری ہاو¿س اور چار ہیکٹر ( تقریباً دس ایکڑ ) قابل کاشت اراضی بھی اس کے تصرف میں ہوگی۔متوقع کرایہ دار کو کرسٹوف نے گاو¿ں کا ڈپٹی میئر بننے کی بھی پیش کش کی ہے۔ کرسٹوف کا کہنا ہے کہ کرایہ ایک ہفتے کے لیے ڈپٹی میئر کا عہدہ سنبھال سکتا ہے اور اگر چاہے تو گاﺅں میں سے گزرنے والی سڑکوں کے نام بھی تبدیل کرسکتا ہے۔بیالیس سالہ کرسٹوف انجیئنرر ہے۔ دس برس قبل وہ بڈاپسٹ میں رہتا تھا۔ ایک تفریحی دورے کے دوران کرسٹوف کو اس گاﺅں میں ٹھہرنے کا اتفاق ہوا۔ اسے یہ گاﺅں اتنا بھایا کہ اس نے یہیں مستقل رہائش اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ایک سال بعد اس نے میگیئر میں جائیداد خریدلی۔ جلد ہی وہ یہاں کا میئر بھی منتخب ہوگیا۔کرسٹوف کا کہنا ہے گاﺅں کو کرائے پر دینے سے اس کا مقصد ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا ہے۔ اور اس سے بھی اہم لوگوں کی توجہ اس گاﺅں کی طرف مبذول کروانا ہے جس کے بیشتر مکین نقل مکانی کرکے شہر میں جا بسے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…