منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

اب گھروں کے بجائے پورے کے پورے گاﺅں کر ائے پر دستیاب

datetime 10  مارچ‬‮  2015 |

وسطی یورپ (نیوز ڈیسک )کے ملک ہنگری میں دارالحکومت بڈاپسٹ سے 180کلومیٹر کی دوری پرمیگئیر نامی گاﺅں واقع ہے۔ میگیئر چھوٹا سا مگر خوب صورت گاﺅں ہے جس کے چاروںر اطراف فطرت کی رنگینیاں بکھری ہوئی ہیں۔ کرسٹوف پیجر بیس مکانات پر مشتمل گاﺅں کا میئر ہے۔ گاﺅں کے بیس میں سے محض پانچ گھر آباد ہیں۔ ان میںکل اٹھارہ افراد رہتے ہیں۔ گذشتہ دنوں کرسٹوف کی جانب سے مقامی اخبارات میں اور انٹرنیٹ پر اشتہار شائع ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ اس کا گاﺅں 210000 فورنٹس ( مقامی کرنسی) یومیہ پر کرایے پر دستیاب ہے۔ اشتہار کے مطابق کرایہ دار اس خوب صورت گاو¿ں میں موجود تمام سہولیات استعمال کرنے کے مجاز ہوں گے۔میگئیر کے درمیان سے چار سڑکیں گزرتی ہیں، یہاںمئیر کا دفتر اور ایک ثقافتی مرکز بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ گاﺅں کے سات مکان تمام ضروری سہولیات سے آراستہ کیے گئے ہیں۔میگئیر کو کرایہ پر حاصل کرنے والا ان تمام سہولیات بشمول میئر کا دفتر، ثقافتی مرکز استعمال کرنے کا مجاز ہوگا۔ اس کے علاوہ چھے گھوڑے، دو گائیں، تین بھیڑیں، پولٹری ہاو¿س اور چار ہیکٹر ( تقریباً دس ایکڑ ) قابل کاشت اراضی بھی اس کے تصرف میں ہوگی۔متوقع کرایہ دار کو کرسٹوف نے گاو¿ں کا ڈپٹی میئر بننے کی بھی پیش کش کی ہے۔ کرسٹوف کا کہنا ہے کہ کرایہ ایک ہفتے کے لیے ڈپٹی میئر کا عہدہ سنبھال سکتا ہے اور اگر چاہے تو گاﺅں میں سے گزرنے والی سڑکوں کے نام بھی تبدیل کرسکتا ہے۔بیالیس سالہ کرسٹوف انجیئنرر ہے۔ دس برس قبل وہ بڈاپسٹ میں رہتا تھا۔ ایک تفریحی دورے کے دوران کرسٹوف کو اس گاﺅں میں ٹھہرنے کا اتفاق ہوا۔ اسے یہ گاﺅں اتنا بھایا کہ اس نے یہیں مستقل رہائش اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ایک سال بعد اس نے میگیئر میں جائیداد خریدلی۔ جلد ہی وہ یہاں کا میئر بھی منتخب ہوگیا۔کرسٹوف کا کہنا ہے گاﺅں کو کرائے پر دینے سے اس کا مقصد ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا ہے۔ اور اس سے بھی اہم لوگوں کی توجہ اس گاﺅں کی طرف مبذول کروانا ہے جس کے بیشتر مکین نقل مکانی کرکے شہر میں جا بسے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…