تہران (نیو ز ڈیسک)ایرانی حکام نے ایک نوجوان لڑکی کو گرفتار کیا گیا ہے، اْس کی عمر بیس برس بتائی گئی ہے۔ اْس کا نام اور صورت عدالتی حکم پر مخفی رکھی گئی ہے۔ ملزمہ نے دھوکا دہی اور فراڈ کے الزامات کی تردید کی ہے۔ ایران کی ایک فوجداری عدالت نے اس لڑکی پر شادی کے نام پر فراڈ کرنے اور دھوکا دہی سے دولت سمیٹنے کے الزام میں فردِ جرم عائد کر دی ہے۔ عدالت نے مقدمے کی باضابطہ کارروائی شروع کرنے کی تاریخ بھی مقرر کر دی ہے لیکن اِس کا اعلان عام نہیں کیا گیا ہے۔ایک ایرانی اخبار کے مطابق نوجوان لڑکی نے شادیاں ضرور رچائی ہیں لیکن ازدواجی تعلقات کے قائم ہونے سے قبل ہی اپنے شوہروں سے طلاق کا مطالبہ کر دیا کرتی تھی۔ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ لڑکی شادی رچانے کے دوران اور بعد میں لبھانے کے رویوں اور دوسرے حیلے بہانے استعمال کرتے ہوئے دولت اکھٹی کرنے کی کوشش میں تھی۔
اس نوجوان خاتون کو فراڈ اور دھوکا دہی کے الزام کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اس نوجوان خاتون کو فراڈ اور دھوکا دہی کے الزام کے تحت گرفتار کیا گیا ہے ایران میں سن 1976 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایک خاتون اپنے ہونے والے شوہر کے ساتھ حقِ مہر کی رقم کو طے کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ یہ رقم باہمی رضامندی سے طے کی جاتی ہے۔ ایرانی لڑکی بھی اِس قانون کا سہارا لے کر مہر کی رقم طے کرتی اور شادی کے فوری بعد طلاق کا مطالبہ کر کے طے شدہ رقم کا نصف حاصل کرتی رہی۔ یہ امر اہم ہے کہ ایسا مطالبہ ایرانی عائلی قانون میں بھی جائز ہے۔ایرانی اخبار کے مطابق لڑکی نے دو سالوں کے درمیان جو دس شادیاں رچائی، ان میں وہ پہلے مہر کی رقم طے کراتی اور پھر فوری طور پر ازدواجی تعلقات کے قائم ہونے سے قبل ہی طلاق حاصل کر لیتی تھی۔ عدالت میں لڑکی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ نہیں سمجھتی کہ اْسے تمام سوالوں کے جواب یقینی طور پر دینے ضروری ہیں۔ عدالت میں لڑکی نے خود کو معصوم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اْس کی تمام شادیاں قانون کے عین مطابق اور جائر تھیں۔ اخبار کے مطلابق تفتیش کار نے لڑکی کے تمام دس شوہروں کو طلب کر کے انکوائری بھی مکمل کی ہے۔لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ تمام دس مردوں نے اْس کے ساتھ شادی اپنی مرضی سے کی تھی اور شادی کے فوری بعد پیدا ہونے والے اختلافات کے باعث ان کو توڑنا پڑا تھا۔ لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ وہ ابھی تک کنواری ہے اور مروجہ قانون کے تحت کنواری لڑکی کو طلاق دینے کے بعد مہر کا نصف ادا کرنا ہوتا ہے۔دس شادیاں رچانے والی لڑکی کے بار بار مختلف شوہروں کے ساتھ شادیاں کرنے کے بعد ایرانی دارالحکومت تہران کے دفترِ رجسٹرار میں اْس کی مختلف وقفوں سے آمد پر ہلچل پیدا ہوئی تھی۔ ہر شادی کے بعد وہ اپنے شناختی کارڈ میں تبدیلیاں بھی کرواتی رہی۔ ایران میں شادی کے بعد بھی کنواری رہ جانے والی خاتون اپنے شناختی کارڈ سے شوہر کا نام ہٹانے کا حق رکھتی ہے۔ لڑکی کے طلاق کے بعد انہی تبدیلیوں پر ہی تفتیشی عمل شروع کیا گیا تھا۔
دو سال میں دس شادیاں، ایرانی خاتون دھر لی گئی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پیٹرول اور ڈیزل سستا کردیا گیا
-
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایسا ریکارڈ قائم جو شاید کبھی نہ ٹوٹ سکے
-
لائبہ اعجاز کیس میں نیا موڑ، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اہم انکشاف
-
عرفان پٹھان کو افغان کرکٹر راشد خان کے گھر دعوت کی ویڈیو مہنگی پڑگئی
-
زلزلے کے جھٹکے
-
صاحبزادہ فرحان نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ابھیشیک شرما کا بڑا ریکارڈ توڑ دیا
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان
-
طلبا اور سرکاری ملازمین کی موجیں، نومبر میں مسلسل 3 چھٹیاں ملنے کا امکان
-
کراچی : گھر سے 5 افراد کی لاشیں ملنے کا واقعہ : پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کا اہم انکشاف
-
اسکولوں کے نئے اوقات کار کا نوٹیفکیشن جاری
-
اقرار الحسن کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور، این سی سی آئی اے نے عدالت میں پیش کردیا
-
اپنا گھر سکیم، شہریوں کے لیے قرض کا حصول مزید آسان ہوگیا
-
ملک میں سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی
-
عمران خان بھٹو



















































