کراچی(این این آئی) برطانوی سائنس دانوں کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ وزن کم کرنے اور ذیابیطس کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی بعض ادویات، خصوصاً سیمیگلوٹائڈ، دمے کے اچانک اور شدید دوروں میں نمایاں کمی سے منسلک ہو سکتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق سیمیگلوٹائڈ، جو جی ایل پی۔1 ریسیپٹر ایگونسٹ ادویات کے گروپ سے تعلق رکھتی ہے اور ذیابیطس اور موٹاپے کے علاج میں استعمال ہوتی ہے، دمے کی علامات کے خطرناک حد تک بگڑنے کے واقعات کو کم کرنے میں ممکنہ طور پر مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔امپیریل کالج لندن کے نیشنل ہارٹ اینڈ لنگ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ تحقیق کی سربراہ کلوئی بلوم کے مطابق جی ایل پی۔1 ریسیپٹر ایگونسٹ ادویات ٹائپ ٹو ذیابیطس اور موٹاپے کے علاج کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کی جاتی ہیں۔ سابقہ تحقیقات سے بھی یہ اشارے مل چکے ہیں کہ ان ادویات میں سوزش کم کرنے کی خصوصیات پائی جا سکتی ہیں اور یہ پھیپھڑوں سے متعلق بعض طبی نتائج کو بہتر بنانے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔محققین نے برطانیہ کے الیکٹرانک طبی ریکارڈز کا جائزہ لیتے ہوئے چار الگ الگ مطالعات کیں۔ ہر تحقیق میں تقریباً 20 ہزار سے 22 ہزار ایسے افراد کو شامل کیا گیا جو یا تو جی ایل پی۔1 گروپ کی ادویات کا استعمال شروع کر چکے تھے یا ذیابیطس کے علاج کے لیے سلفونائل یوریا نامی دوا استعمال کر رہے تھے۔
تحقیق میں دمے اور دائمی رکاوٹ والی پلمونری بیماری (سی او پی ڈی) سمیت سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے طبی نتائج کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد کو جی ایل پی۔1 ادویات تجویز کی گئی تھیں، ان میں دمے کے دوروں اور سی او پی ڈی کے اچانک بگڑنے کے واقعات دوسری ذیابیطس ادویات استعمال کرنے والے افراد کے مقابلے میں کم تھے۔کلوئی بلوم کے مطابق یہ اثر سیمیگلوٹائڈ استعمال کرنے والے افراد میں سب سے زیادہ نمایاں نظر آیا۔ خاص طور پر دمے کے مریضوں میں سیمیگلوٹائڈ کا استعمال دمے کے دوروں میں تقریباً 40 فیصد کمی سے منسلک پایا گیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ تحقیق کے نتائج جی ایل پی۔1 ادویات اور سانس کی بیماریوں کے درمیان ایک ممکنہ تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم یہ نتائج اس بات کا حتمی ثبوت نہیں کہ سیمیگلوٹائڈ دمے کا باقاعدہ علاج ہے۔ماہرین کے مطابق ان ادویات کو دمے کے علاج کے لیے استعمال کرنے سے قبل مزید تحقیق اور باقاعدہ طبی آزمائشوں کی ضرورت ہے تاکہ ان کی افادیت، ممکنہ فوائد اور طویل مدتی حفاظت کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔



















































