اسلام آباد ( نیوز ڈیسک) صبح کے وقت ناشتہ کرنا صرف دن کا آغاز توانائی کے ساتھ کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ جسم میں خون کی شکر کو کنٹرول کرنے کے نظام پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔
نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دن کا آغاز کھانے سے کرنے کی عادت بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے امکانات کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔امریکا کی وینڈربلٹ یونیورسٹی کے ماہرین نے اس بات کا جائزہ لیا کہ صبح کھانا کھانے یا اسے چھوڑ دینے سے جسم میں خون کی شکر کو منظم کرنے والے ہارمونز کس طرح متاثر ہوتے ہیں۔ تحقیق کے دوران بالخصوص انسولین اور گلوکاگون کے کردار پر توجہ مرکوز کی گئی۔محققین کے مطابق صبح کے اوقات میں گلوکاگون کی مقدار بڑھنے سے جگر کو خون میں گلوکوز خارج کرنے کا سگنل مل سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بلڈ شوگر کی سطح میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ یہ صورتحال بالخصوص ان افراد کے لیے اہم ہے جن کا جسم گلوکوز کو مناسب طریقے سے کنٹرول نہیں کر پاتا۔
تحقیق میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں دن کے مختلف اوقات میں بلڈ شوگر کے اتار چڑھاؤ کے پیچھے ہارمونی تبدیلیاں اور جسم کے میٹابولک عوامل بھی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ صبح کے کھانے اور جسم کے گلوکوز کنٹرول کرنے والے نظام کے درمیان تعلق کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم ناشتہ کرنے یا نہ کرنے کے طویل عرصے تک جاری رہنے والے اثرات جاننے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔محققین کے مطابق اس تحقیق سے مستقبل میں جسم کے بلڈ شوگر کنٹرول کے طریقہ کار کو بہتر طور پر سمجھنے اور ذیابیطس سے بچاؤ یا اس کے انتظام کے لیے غذائی حکمت عملی وضع کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔تحقیق کے نتائج طبی جریدے Frontiers in Endocrinology میں شائع کیے گئے ہیں۔



















































