اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزمرہ زندگی میں خوراک، پانی اور ہوا کے ذریعے جسم میں داخل ہونے والے پلاسٹک کے نہایت باریک ذرات دل کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں اور ہارٹ اٹیک کے امکانات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مائیکرو پلاسٹکس اس وقت ہمارے اردگرد تقریباً ہر جگہ موجود ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق ایک عام انسان ہر ہفتے اتنی مقدار میں یہ ذرات اپنے جسم میں جذب کرتا ہے جو ایک کریڈٹ کارڈ کے وزن کے برابر ہوتی ہے، تاہم انسانی جسم پر ان کے مکمل اثرات کے بارے میں تحقیق ابھی جاری ہے۔اٹلی کی سیپینزا یونیورسٹی کی تحقیق میں چھ افراد کا جائزہ لیا گیا جن کی انجیوگرافی کی گئی تھی۔ اس طبی معائنے کے ذریعے خون کی نالیوں میں رکاوٹ یا تنگی کا پتہ لگایا جاتا ہے۔تحقیق کے لیے شرکا کو تین مختلف گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ پہلے گروپ میں ہارٹ اٹیک کا شکار افراد، دوسرے میں وہ مریض شامل تھے جن کی دل کی شریانیں چربی یا دیگر مواد جمع ہونے سے تنگ ہو چکی تھیں، جبکہ تیسرے گروپ میں صحت مند افراد کو رکھا گیا۔محققین نے جدید لیبارٹری ٹیکنالوجی کی مدد سے دل کی شریانوں میں مائیکرو پلاسٹکس کی موجودگی کا جائزہ لیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ہارٹ اٹیک کے مریضوں کی شریانوں میں پلاسٹک کے ذرات کی مقدار دیگر افراد کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ تھی، جو خون کے ذریعے براہِ راست دل کی شریانوں تک پہنچ سکتے ہیں۔تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ 2024 میں ہونے والی ایک سابقہ تحقیق کے نتائج بھی اسی جانب اشارہ کرتے تھے کہ مائیکرو پلاسٹکس دل کی شریانوں میں جمع ہو سکتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق جب شریانوں میں اس قسم کا مواد جمع ہونے لگتا ہے تو دل کا دورہ، فالج اور دیگر سنگین قلبی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔سائنس دانوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ تمباکو نوشی اور فضائی آلودگی جیسے عوامل بھی دل کی شریانوں میں مائیکرو پلاسٹکس کے جمع ہونے کے عمل کو تیز کر سکتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ہارٹ اٹیک کے شکار 84 فیصد مریضوں کی شریانوں میں پلاسٹک کے ذرات موجود تھے، جبکہ دل کی شریانوں میں تنگی کے شکار 40 فیصد مریضوں میں بھی یہ ذرات پائے گئے۔ حیران کن طور پر تقریباً 32 فیصد صحت مند افراد کی شریانوں میں بھی مائیکرو پلاسٹکس کی موجودگی ریکارڈ کی گئی۔محققین نے بتایا کہ مختلف اقسام کے پلاسٹک میں سے پولی تھیلین کے ذرات سب سے زیادہ مقدار میں دریافت ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس موضوع پر مزید وسیع تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ مائیکرو پلاسٹکس کے انسانی صحت پر طویل المدتی اثرات کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔



















































