منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

پابندی کے باوجود پاکستان میں قابل استعمال سرنجز کی فروخت کا انکشاف

datetime 29  اپریل‬‮  2026 |

اسلام آباد(این این آئی)پابندی کے باوجود پاکستان میں قابلِ استعمال سرنجز کی فروخت جاری رہنے کا انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جعلی auto disableسرنجز بھی مارکیٹ میں موجود جن کا ایک سے زائد بار استعمال ممکن ہے، پیکنگ پر آٹو ڈس ایبل لکھ کر دوبارہ قابل استعمال سرنجز فروخت کی جا رہی ہیں۔پشاور، ملتان، جیکب آباد سمیت مختلف شہروں سے دوبارہ قابل استعمال سرنجز حاصل کی گئی ہیں۔خیبر پختونخواہ کے گدون امازئی انڈسٹریل زون میں زیادہ تر قابل استعمال سرنجز کی تیاری اور ترسیل کا انکشاف ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق اتائی 50اور 100روپے میں انجکشن لگانے کیلئے ایک ہی سرنج بار بار استعمال کرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق جعلی SAFTEYسرنجز کا استعمال بھی انفیکشن کنٹرول نظام کو غیر موثر بنا رہا ہے ۔ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ)نے کہا کہ پابندی کے باوجود سرنجز کی فروخت پر ایکشن لیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…