جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

شدید گرمی سے شہریوں کے گردے متاثر، ماہرین نے خبردار کردیا

datetime 6  مئی‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)کراچی میں گردے کے انفیکشنز کے کیسز میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے. طبی ماہرین نے خبردار کردیا ہے کہ پانی کی کمی اور پسینے کے باعث گردے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق اسپتالوں میں مریض کمر کے نچلے حصے کے دونوں جانب درد، پیشاب میں جلن اور کمی،خون، پیپ اور بخار کے ساتھ داخل ہورہے ہیں۔ کراچی میں جاری گرم و مرطوب موسم کے باعث گردے کے انفیکشنز کے کیسز میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ پانی کے کم استعمال، پسینے کے زیادہ اخراج اور جسم میں نمکیات کے جمع ہونے سے شہریوں کے گردے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ جناح اسپتال کراچی کی ماہر امراض گردہ (یورولوجسٹ)ڈاکٹر مہرین عروج نے کہا کہ گردے کے انفیکشن کی عام علامات میں کمر کے نچلے حصے کے دونوں جانب درد، پیشاب کرتے وقت جلن اور مقدار میں کمی، پیشاب میں خون اور پیپ آنا، اور بخار کے ساتھ شدید درد شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ تمام علامات گردے میں انفیکشن یا سوزش کی نشاندہی کرتی ہیں جنہیں نظر انداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

گرمیوں میں جسم سے اضافی پانی پسینے کی صورت میں خارج ہو جاتا ہے، جبکہ شہری عمومی طور پر پانی کم پیتے ہیں۔ اس سے گردے کی پانی کو فلٹر کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور نمکیات و منرلز گردے میں جمع ہو کر نہ صرف انفیکشن بلکہ پتھری کا سبب بھی بنتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ صرف ایک ماہ میں گردے کے انفیکشن کے مریضوں کی تعداد دگنی ہو گئی ہے اور جناح اسپتال میں گردے کے انفیکشن کے اب روزانہ 150 مریض رپورٹ ہو رہے ہیں۔ طبی ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ روزانہ کم از کم تین لیٹر پانی پئیں تاکہ ان کے جسم سے ایک لیٹر پیشاب خارج ہو سکے جو گردے کی صفائی اور صحت کے لیے نہایت ضروری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…