بدھ‬‮ ، 21 جنوری‬‮ 2026 

گھریلو پلاسٹک لاکھوں اموات کا سبب بن سکتی ہے، تحقیق

datetime 1  مئی‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)گھریلو پلاسٹکس جو پانی کی بوتلوں، کھانے کی پیکیجنگ، شیمپو اور کھلونوں میں پایا جاتا ہے، تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ یہ ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں دل کی بیماریوں کیوجہ سے موت کا سبب بن سکتا ہے۔ای بائیو میڈیسن جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں صحت کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا اور معلوم ہوا کہ ان پلاسٹکس نے 2018 میں 55 سے 64 سال کی عمر کے مردوں اور عورتوں میں 368,764 کیسز میں دل کی بیماریوں سے ہونے والی تمام اموات میں 13% کردار ادا کیا۔

ان اموات میں سے تقریبا 10% امریکا میں ہوئیں۔نیو یارک یونیورسٹی گراسمین اسکول آف میڈیسن کی ایک ایسوسی ایٹ ریسرچ سائنسدان سارہ ہیمن نے ایک بیان میں کہا، “دنیا بھر میں پلاسٹک اور موت کی سب سے بڑی وجہ یعنی دل کی بیماری کے درمیان تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے، ہمارے نتائج اس بات کے وسیع ثبوت پیش کرتے ہیں کہ یہ کیمیکلز انسانی صحت کے لیے زبردست خطرہ ہیں۔محققین کے مطابق، تقریبا 75 فیصد اموات ترقی پذیر ممالک میں ہوئیں جن میں ایشیا، مشرق وسطی اور بحر الکاہل شامل ہیں۔گروسمین اسکول آف میڈیسن کے پروفیسر اور مطالعہ کے مصنفین میں سے ایک لیونارڈو ٹراسانڈے نے کہا، “ہم اعلی آمدنی والے ممالک میں پلاسٹک کو ایک مسئلہ سمجھتے ہیں۔ لیکن جو کچھ ہم جغرافیائی طور پر پیٹرن میں دیکھ رہے ہیں وہ پریشان کن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…