ایسٹرازینیکا کا ایم آر این اے ویکسینز سے امتزاج موثر قرار

  منگل‬‮ 3 اگست‬‮ 2021  |  15:56

کوپن ہیگن(این این آئی)ایسٹرازینیکا ویکسین کا امتزاج ایم آر این اے ویکسینز سے کرنا کووڈ سے بہترین تحفظ فراہم کرتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات ڈنمارک میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ڈنمارک کے سرکاری سیرم انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں بتایا گیا کہایسٹرازینیکا کی پہلی خوراک کے بعد دوسری ڈوز کے لیے فائزر۔بائیو این ٹیک یا موڈرنا ویکسینز کا استعمال کووڈ سے اچھا تحفظ فراہم کرتا ہے۔کئی ممالک میں ایسٹرازینیکا کے ساتھ دوسری خوراک کے طور پر کسی اور ویکسین کے استعمال پر غور کیا جارہا ہے۔ڈنمارک میں حکام نے اپریل میں بلڈ کلاٹ کے ریئر مضر اثر


کے بعد ایسٹرا زینیکا ویکسین کا استعمال روک دیا گیا تھا۔ڈنمارک میں ایک لاکھ 44 ہزار سے زیادہ افراد (جن میں سے بیشتر طبی محکموں سے تعلق رکھتے تھے یا بزرگ تھے )کو پہلی خوراک کے طور پر ایسٹرا زینیکا ویکسین دی گئی تھی مگر بعد میں فائزر یا موڈرنا ویکسینز کا استعمال دوسری خوراک کے طور پر کرایا گیا۔تحقیق میں بتایا گیا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ ویکسین استعمال نہ کرنے والے افراد کے مقابلے میں ویکسینز کے امتزاج کے 14 دن بعد کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کا خطرہ 88 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ بہت زیادہ افادیت ہے جس کا موازنہ فائزر ویکسینز کی 2 خوراکوں سے ملنے والے 90 فیصد تحفظ سے کیا جاسکتا ہے۔یہ تحقیق فروری سے جون 2021 تک جاری رہی تھی، اس عرصے میں ڈنمارک میں کورونا کی قسم ایلفا بہت زیادہ پھیلی ہوئی تھی۔تحقیق میں بتایا گیا کہ اس تحفظ کا اطلاق کورونا کی قسم ڈیلٹا پر نہیں ہوتا جو اب ڈنمارک میں سب سے زیادہ پھیلنے والی قسم ہے۔تحقیق میں ویکسینز کے امتزاج کی کووڈ سے متعلق اموات یا ہسپتال میں داخلے کے خلاف افادیت کے حوالے سے بھی ڈیٹا نہیں دیا گیا۔


زیرو پوائنٹ

دو ہزاربچوں کا محسن

چترال کے دو حصے ہیں‘ اپر چترال اور لوئر چترال‘ دونوں اضلاع الگ الگ ہیں‘ لوئر چترال دریا کے کنارے آباد ہے اور وادی نما ہے جب کہ اپر چترال پہاڑوں پر چپکے‘ لٹکے اور پھنسے ہوئے دیہات کی خوب صورت ٹوکری ہے‘ ہم اتوار کی صبح اپر چترال کے ضلعی ہیڈ کوارٹر بونی کے لیے روانہ ہوئے‘ سفر مشکل ....مزید پڑھئے‎

چترال کے دو حصے ہیں‘ اپر چترال اور لوئر چترال‘ دونوں اضلاع الگ الگ ہیں‘ لوئر چترال دریا کے کنارے آباد ہے اور وادی نما ہے جب کہ اپر چترال پہاڑوں پر چپکے‘ لٹکے اور پھنسے ہوئے دیہات کی خوب صورت ٹوکری ہے‘ ہم اتوار کی صبح اپر چترال کے ضلعی ہیڈ کوارٹر بونی کے لیے روانہ ہوئے‘ سفر مشکل ....مزید پڑھئے‎