موذی وائرس پھر بڑھنے لگا،ایک ہی روز میں پاکستان میں بڑے پیمانے پر زندگیاں نگل گیا

  منگل‬‮ 9 مارچ‬‮ 2021  |  11:49

اسلام آباد (این این آئی) ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 4اعشاریہ 2 فیصد رہی اور کورونا کے مزید 54 مریض انتقال کر گئے۔نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 1 ہزار 353کیسز سامنے آئے ہیں، مزید 54افراد اس موذی وباء کے سامنے زندگی کی بازی ہار گئے، جبکہ اس بیماری سے 3 ہزار365 مریض شفایاب ہو گئے۔ملک بھر میں کورونا وائرس سے انتقال کرنے والوں کی مجموعی تعداد 13 ہزار 281


ہو گئی ہے جبکہ کْل مریضوں کی تعداد 5 لاکھ 93 ہزار 453 ہو چکی ہے۔24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے مزید 31 ہزار 786ٹیسٹ کیئے گئے جبکہ اب تک کْل 92 لاکھ 78ہزار 613 کورونا ٹیسٹ کیئے جا چکے ہیں۔ملک بھر میں ہسپتالوں، قرنطینہ سینٹرز اور گھروں میں کورونا وائرس کے کْل 16 ہزار 349 مریض زیرِ علاج ہیں، جن میں سے 1 ہزار 644 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے، جبکہ 5 لاکھ 63 ہزار 823 مریض اب تک اس بیماری سے شفایاب ہو چکے ہیں۔سندھ میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد دوسرے صوبوں سے زیادہ 2 لاکھ 59 ہزار 956 ہو چکی ہے، جبکہ کْل اموات 4 ہزار 436ہو گئیں۔پنجاب میں کورونا وائرس کے اب تک 1 لاکھ 78 ہزار648 مریض سامنے آئے ہیں جبکہ یہاں کْل ہلاکتیں دیگر صوبوں سے زیادہ ہیں جو 5 ہزار 600ہو گئیں۔خیبر پختون خوا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 74 ہزار 167ہو چکی ہے جبکہ اس سے کْل اموات 2 ہزار 118ہو گئیں۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 45 ہزار976کورونا وائرس سے متاثرہ مریضاب تک سامنے آئے ہیں، اب تک یہاں کْل 511 افراد اس وباء سے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔کورونا وائرس کے بلوچستان میں 19 ہزار 121 مریض اب تک رپورٹ ہوئے ہیں جہاں 201 افراد اس مرض سے انتقال کر چکے ہیں۔آزاد جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کے اب تک 10 ہزار 626 مریض رپورٹ ہوئے ہیں، اس کے باعث اب تک یہاں کْل 313 مریض وفات پا چکے ہیں۔گِلگت بلتستان میں 4 ہزار 959 کورونا وائرس کے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ اس سے اب تک 102 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎