جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

کوئی گارنٹی نہیں کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین ایک دفعہ لگوانے کے بعد دوبارہ اس کی ضرورت نہیں رہے گی،برطانوی ماہرین نے تحفظات کا اظہار کر دیا

datetime 20  دسمبر‬‮  2020 |

لندن (آن لائن)انگلینڈ کے چیف میڈیکل افسر نے کہا ہے کہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین ایک دفعہ لگوانے کے بعد دوبارہ اس کی ضرورت نہیں رہے گی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انگلینڈ کے چیف میڈیکل آفیسر کرس وائٹی نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اس وائرس نے خود کو تبدیل کیا تو ممکن ہے ہر سال ویکسین لگانا پڑے، پروفیسر کرس وائٹی

کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں اور نہ ہی اس بات کی گارنٹی ہے کہ کرونا وائرس کے اثرات کتنے عرصہ تک رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ ابھی ہمیں اس وائرس سے متعلق مزید اعداد و شمار کی ضرورت ہے کہ کیا ایک شخص کو بار بار ویکسین لگانے کی ضرورت ہے یا نہیں، انہوں نے کہا کہ ویکسین اسکیم کو توسیع دینے کی ضرورت ہے۔سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کمیٹی اور صحت و سماجی نگہداشت کمیٹی کے سامنے اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر وائٹی نے کہا کہ ابھی تک ہمیں اس ضمن میں مکمل علم نہیں کہ یہ مختصر، درمیانی مدت یا ہمیشہ کے لیے تحفظ فراہم کرنے والی ویکسین ہے چنانچہ اس بات کے مواقع انتہائی زیادہ ہیں کہ ہمیں ایک بار سے زیادہ یا ہر سال لوگوں کو یہ انجیکشن لگانے پڑیں۔پروفیسر وائٹی نے اس خطرے کا بھی اظہار کیا کہ یہ وائرس جس قسم کا ہے اس بات کے چانسز بھی ہیں کہ سائنس دانوں کو مکمل طور پر نئے سرے سے یہ ویکسین تیار کرنا پڑے۔علاوہ ازیں محکمہ صحت کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جس شخص کو کسی قسم کی الرجی ہو اسے کرونا وائرس ویکسین نہیں لگانی چاہیئے کیونکہ اس سے زیادہ مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب این ایچ ایس کے چند ورکرز کو یہ ویکسین لگائی گئی تو انہیں فوراً منفی ری ایکشن کا سامنا کرنا پڑا، ابتدائی طور پر ویکسین کی 8 لاکھ خوراکیں موجود ہیں جو 4 لاکھ افراد کو لگائی جائیں گی کیونکہ ایک مریض کو 2 خوراکیںدی جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…