منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کوئی گارنٹی نہیں کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین ایک دفعہ لگوانے کے بعد دوبارہ اس کی ضرورت نہیں رہے گی،برطانوی ماہرین نے تحفظات کا اظہار کر دیا

datetime 20  دسمبر‬‮  2020 |

لندن (آن لائن)انگلینڈ کے چیف میڈیکل افسر نے کہا ہے کہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین ایک دفعہ لگوانے کے بعد دوبارہ اس کی ضرورت نہیں رہے گی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انگلینڈ کے چیف میڈیکل آفیسر کرس وائٹی نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اس وائرس نے خود کو تبدیل کیا تو ممکن ہے ہر سال ویکسین لگانا پڑے، پروفیسر کرس وائٹی

کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں اور نہ ہی اس بات کی گارنٹی ہے کہ کرونا وائرس کے اثرات کتنے عرصہ تک رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ ابھی ہمیں اس وائرس سے متعلق مزید اعداد و شمار کی ضرورت ہے کہ کیا ایک شخص کو بار بار ویکسین لگانے کی ضرورت ہے یا نہیں، انہوں نے کہا کہ ویکسین اسکیم کو توسیع دینے کی ضرورت ہے۔سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کمیٹی اور صحت و سماجی نگہداشت کمیٹی کے سامنے اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر وائٹی نے کہا کہ ابھی تک ہمیں اس ضمن میں مکمل علم نہیں کہ یہ مختصر، درمیانی مدت یا ہمیشہ کے لیے تحفظ فراہم کرنے والی ویکسین ہے چنانچہ اس بات کے مواقع انتہائی زیادہ ہیں کہ ہمیں ایک بار سے زیادہ یا ہر سال لوگوں کو یہ انجیکشن لگانے پڑیں۔پروفیسر وائٹی نے اس خطرے کا بھی اظہار کیا کہ یہ وائرس جس قسم کا ہے اس بات کے چانسز بھی ہیں کہ سائنس دانوں کو مکمل طور پر نئے سرے سے یہ ویکسین تیار کرنا پڑے۔علاوہ ازیں محکمہ صحت کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جس شخص کو کسی قسم کی الرجی ہو اسے کرونا وائرس ویکسین نہیں لگانی چاہیئے کیونکہ اس سے زیادہ مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب این ایچ ایس کے چند ورکرز کو یہ ویکسین لگائی گئی تو انہیں فوراً منفی ری ایکشن کا سامنا کرنا پڑا، ابتدائی طور پر ویکسین کی 8 لاکھ خوراکیں موجود ہیں جو 4 لاکھ افراد کو لگائی جائیں گی کیونکہ ایک مریض کو 2 خوراکیںدی جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…