جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

کروناوائرس کیخلاف تیار ویکسین کے پیچھے کونسا مسلمان جوڑا ہے ؟ ددنوں کاتعلق کس اسلامی ملک سے ہے؟ تاریخی کارنامے پردنیا کی بڑی بڑی طاقتیں ششدر رہ گئیں‎

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

انقرہ(این این آئی)عالمی وبا کورونا وائرس سے بچا ئوکی ویکسین کے حوالے سے امریکی دوا ساز کمپنی فائزر اور اس کی شراکت دار جرمن کمپنی بائیون ٹیک عالمی ذرائع ابلاغ میں نمایاں رہے ہیں لیکن بہت کم لوگوں کے علم میں ہے کہ جو ویکسین تیار کی گئی ہے اس کی پشت پر ایک ترک نژاد ڈاکٹر اور ان کی اہلیہ کی کاوش کا سب سے زیادہ عمل دخل ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق

55 سالہ ترک نژاد پروفیسر ڈاکٹر اوگر ساہن شام کے شہر اسکنررونہ میں پیدا ہوئے تھے۔اسکندرونہ کو ترکی نے 1939 میں اپنی حدود میں شامل کرلیا تھا اوراس کا نام تبدیل کرکے ہاتائے ایلی رکھ دیا تھا۔پروفیسر ڈاکٹر اوگر کے متعلق غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں بتایا جارہا ہے کہ وہ صرف چار برس کی عمر میں والد کے ہمراہ ہجرت کرکے جرمنی آگئے تھے، پروفیسر ڈاکٹر اوگر ساہن کا سنِ پیدائش 1965 ہے۔ان کی اہلیہ ڈاکٹر اوزلم توریسی ہیں جو جرمنی میں پیدا ہوئی تھیں۔ ڈاکٹر اوزلم بھی ایک ترک ڈاکٹر کی صاحبزادی ہیں جنہوں نے استنبول سے جرمنی ہجرت کی تھی اور پھر وہیں مستقل سکونت اختیار کرلی تھی۔جرمن ذرائع ابلاغ کے مطابق پروفیسر اوگر اور ڈاکٹر اوزلم نے 2001 میں شادی کی جس کے بعد ایک دوا ساز کمپنی کی بنیاد رکھی۔ اس کمپنی کو چار سال قبل ایک جاپانی کمپنی نے ایک اعشاریہ 4 ارب ڈالرز میں خرید لیا تھا کیونکہ وہ مقبولیت میں بے پناہ آگے تھی۔پروفیسر اوگر اور ڈاکٹر اوزلم نے 2008 میں نئی کمپنی بائیون ٹیک کی بنیاد رکھی اور اس کا مقصد سرطان کے خلاف تحقیقات کرکے اینٹی باڈیز تیار کرنا تھا۔کورونا وائرس کی آمد کی اطلاع کے ساتھ ہی اس کمپنی نے فائزر کے ساتھ مل کر ویکسین کی تیاری پر کام شروع کردیا اور پھر دن رات کی محنت سے کورونا وائرس سے بچائو کی ویکسین دنیا کے سامنے لے آئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…