منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا وائرس ویکسین کا رضاکار میں منفی ردعمل،فوری طور پر آزمائشی مرحلہ روک دیا گیا

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

لندن (آن لائن )برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی اور دوا ساز کمپنی آسٹرا زینیکا کی جانب سے کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار کی جانے والی ویکسین کی آزمائش کے آخری مرحلے کو اْس وقت روکنا پڑا جب اس آزمائش میں شامل ایک رضاکار میں شدید نوعیت کا منفی ردعمل سامنے آیا۔ برطا نوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کمپنی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایک

یہ ایک ایسی بیماری کی وجہ سے ہوا جس کی اب تک کوئی وجہ معلوم نہیں ہو سکی اور اس کی وجہ سے کمپنی نے آزمائشی مرحلے میں ایک ’معمول کا وقفہ‘ لیا ہے۔اس ویکسین کی آزمائش پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں اور یہ تصور کیا جاتا ہے کہ مغربی ممالک میں آکسفورڈ اور آسٹرازینیکا کے اشتراک سے ہونے والی آزمائش عالمی طور پر استعمال ہونے والی ویکسین کے لیے ایک مضبوط امیدوار ہے۔یہ ویکسین آزمائش کے دو مراحل سے گزر چکی ہے اور اس وقت اس پر ریسرچ اپنے آخری اور حتمی مرحلے میں ہے جو کہ کچھ ہفتے قبل ہی شروع ہوا تھا۔اس مرحلے میں 30 ہزار افراد شرکت کر رہے ہیں جن کا تعلق برطانیہ، امریکہ، برازیل اور جنوبی افریقہ سے ہے۔عام طور پر کسی بھی ویکسین کی تیاری میں تیسرے مرحلے میں ہزاروں افراد شرکت کرتے ہیں اور یہ کئی سالوں تک جاری رہتا ہے۔ بی بی سی کے مطابق اس ویکسین کی دنیا بھر میں آزمائش عارضی طور پر روک دی گئی ہے اور واقعے کی آزادانہ طور پر تفتیش جاری ہے۔ ان معلومات کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ آزمائش کو دوبارہ کب شروع کیا جائے۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے ترجمان کی جانب سے کہا گیا کہ ‘بڑے پیمانے پر کیے جانے والی آزمائشوں میں بیماریاں سامنے آ سکتی ہیں لیکن ہمیں آزادانہ طور پر اس کا جائزہ لینا ہوگا کہ ہوا کیا ہے۔’ یہ دوسرا موقع ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی کورونا ویکسین کی آزمائش کو

روکا گیا ہو۔ دنیا بھر میں کسی بھی دوا کی آزمائش میں ایسا ہونا معمول کی بات ہے۔ اس میں حصہ لینے والے افراد میں سے کوئی بھی اگر بیمار ہو جائے اور ہسپتال میں داخل ہو تو آزمائش کو عارضی طور پر روک دیا جاتا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان کی بیماری کی وجہ کیا ہے۔خیال کیا جا رہا ہے کہ چند روز میں آزمائش کو دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔ دوسری جانب ویکسین تیار

کرنے والی نو کمپنیوں نے کورونا وائرس کی ویکسین کی تلاش میں سائنسی اور اخلاقی معیارات برقرار رکھنے کے لیے ایک ‘تاریخی عہد’ کیا ہے۔فائزر اور میرک سمیت ان کمپنیوں نے کہا کہ وہ ریگولیٹری اداروں کی جانب سے منظوری کے لیے صرف تب درخواست دیں گی جب ان کی ویکسینز آزمائش کے تینوں مرحلوں سے بخوبی گزر جائیں گی۔یہ ‘عہد’ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے

جب کورونا وائرس کی ممکنہ ویکسینز کے محفوظ ہونے کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں ویکسین کی امیدوار 180 دواؤں پر تجربات جاری ہیں۔ادارے کے مطابق اسے امید نہیں ہے کہ کوئی ویکسین رواں سال اس کے مؤثر اور محفوظ ہونے کے رہنما اصولوں پر پوری اترے گی کیونکہ انھیں محفوظ انداز میں آزمانے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…