بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

نوول کورونا وائرس سے جسم میں ایک اور جان لیوا پیچیدگی کا انکشاف امریکی تحقیق کےدوران ہوشربا باتیں سامنے آگئیں

datetime 23  جون‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی)نوول کورونا وائرس کی وبا کو اب کئی ماہ ہوچکے ہیں مگر اب بھی طبی ماہرین اس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی اہم علامات بشمول خشک کھاانسی، بخار اور سانس کی گھٹن ہر زور دے رہے ہیں، کیونکہ یہ پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے۔

مگر اس سے بہت زیادہ بیمار ہونے والے افراد کے جسم کے اندر بھی تباہی ہوتی ہے جیے گردے، جگر اور دیگر اعضا۔اب یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ کورونا وائرس اپنے کچھ شکاروں کی حرکت قلب بھی بند کردیتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔پنسلوانیا یونیورسٹی کے ہسپتال میں زیرعلاج کووڈ 19 کے 700 مریضوں میں سے 9 کو اچانک کارڈک اریسٹ (جس میں حرکت قلب اچانک تھم جاتی ہے)کا سامنا ہوا۔ان 9 میں سے 7 مریضوں کی عمریں 60 سال سے کم تھی۔ڈاکٹر ان 9 میں سے 6 مریضوں کی زندگیاں بچانے میں کامیاب رہے مگر محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے یاد دہانی ہوتی ہے کہ کووڈ 19 کسی طرح پورے جسم میں تباہی مچانے والی بیماری ہے۔کارڈک اریسٹ کے ساتھ محققین نے 53 کیسز ایسے بھی دیکھے جن میں آئی سی یو میں زیرعلاج کووڈ 19 کے مریضوں کی دل کی دھڑکن کی رفتار میں غیرمعمولی تبدیلیاں آئی جن میں کارڈک اریسٹ کے شکار 9 افراد بھی شامل تھے۔شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ دل کے افعال میں یہ خرابیاں براہ راست وائرس سے دل کے خلیات کو متاثر ہونے سے نہیں ہوا بلکہ یہ اس وقت ہوا جب وائرس کے خلاف مدافعتی نظام بہت زیادہ متحرک ہوگیا، جس کے نتیجے میں خطرناک ورم پھیلنا شروع ہوگیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ جب جسم بہت زیادہ دبا کی زد میں ہوتا ہے، وہ بھی عام حالات میں، تو اس وقت بھی دل کی دھڑکن کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 9 میں سے 8 کارڈک اریسٹ کے کیسز کی قسم ایسی نہیں تھی جو دل کی دھڑکن کی رفتار معمول پر لانے سے دوبارہ لاحق ہوسکتی ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہے سی پی آر اور ادویات کے بعد آپ نبض بحال ہونے کی دعا کرسکتے ہیں۔

طبی جریدے ہارٹ ردہم میں شائع تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کے مریضوں میں دل کے کچھ مسائل غیرمعمولی بلڈ کلاٹس کا نتیجہ ہوتے ہیں۔اس تحقیق میں ماہرین نے دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی کی ایک قسم اے فیب کو دریافت کیا تھا جو خود بلڈ کلاٹس کا باعث بنتی ہے، تو یہ تعین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ یہ وائرس کا نتیجہ ہے یا دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی کا۔محققین کے مطابق کووڈ 19 کے کچھ کیسز میں بلڈ کلاٹس براہ راست وائرس کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہیں اور کچھ میں یہ دل کے افعال میں خرابیوں کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ کووڈ کے شکار ہوں اور دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی کا بھی سامنا ہوجائے تو یہ بیماری دو دھاری تلوار بن جاتی ہے۔تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا کہ کووڈ 19 کے متعدد ایسے مریض جن کو دل کے امراض کا سامنا ہوا، وہ پہلے سے ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور دیگر امراض کا شکار تھے۔اس سے قبل مختلف ممالک میں بھی کورونا وائرس کے مریضوں میں دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی کے کیسز سامنے آئے تھے۔محققین کا کہنا تھا کہ اب وہ ان مریضوں کا جائزہ لیتے رہیں گے جن کو کووڈ 19 کے نتیجے میں دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی کا سامنا ہوا کہ یہ عارضہ طویل المعیاد بنیادوں پر انہیں متاثر تو نہیں کرتا۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…