پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

جنہیں پہلے ہی یہ بیماری ہو وہ کرونا وائرس کا شکار زیادہ بن سکتےہیں ؟ طبی ماہرین نے خبردار کر دیا

datetime 12  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ذیابطیس کے مریضوں میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے امکانات صحت مند لوگوں جتنے ہی ہیں لیکن ذیابطیس کے مریضوں میں کورونا وائرس کا حملہ زیادہ جان لیوا ثابت ہورہا ہے۔ ذیابطیس کے مریضوں کو چاہیے کہ وہ اپنی شوگر کنٹرول کرنا شروع کردیں اور خاص طور پر رمضان کے مقدس مہینے میں روزے رکھنے کے لیے ابھی سے تیاری شروع کریں۔دواؤں اور انسولین کی

ڈوز میں ڈاکٹر کے مشورے سے تبدیلی اور صحت مند طرز زندگی اپنا کر ذیابطیس کے مریض رمضان کے مہینے میں بغیر کسی دشواری کے روزے رکھ سکتے ہیں۔ کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والے مریضوں کو روزے رکھنے کی ضرورت نہیں لیکن صحتیابی کے بعد اگر معالج ان کو اجازت دیں تو وہ روزے رکھ سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار ماہرین نے اتوار کے روز ‘زیابطیس اور رمضان کے عنوان سے منعقدہ آن لائن آگاہی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس کا انعقاد بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائبیٹالوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی نے کیا تھا۔معروف ماہر امراض ذیابطیس ڈاکٹر سیف الحق کا کہنا تھا کہ آن لائن آگاہی پروگرام منعقد کرنے کا مقصد روزے داروں کو آنے والے ماہ رمضان کے لئے تیار کرنا ہے ۔روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق پروگرام میں میں سائنسی بنیادوں پر ہونے والی تحقیق اور عالمی اداروں کی تجاویز کی روشنی میں ذیابطیس کے مریض روزے داروں کو محفوظ طریقے سے ماہ رمضان گزارنے کے مشورے دیئے جاتے ہیں۔ڈاکٹر سیف الحق کا کہنا تھا کہ رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے ہی ذیابطیس کے مریضوں کو اس کی تیاری شروع کر دینی چاہیے اور اپنے معالج کے مشورے سے دواؤں اور اپنے معمولات زندگی کو بدلنا شروع کر دینا چاہیے تاکہ وہ رمضان کے مہینے میں آسانی سے روزے اور عبادات کا لطف اٹھا سکیں۔معروف عالم دین مولانا احتشام الحق کلیانوی کا کہنا تھا کہ

اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ اپنی جانوں کو ہلاکت میں مت ڈالو جس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اگر معالجین روزے رکھنے سے منع کریں تو ایسے لوگوں پر فرض ہے کہ وہ معالجین کی ہدایات پر عمل کریں۔ مولانا کلیانوی کا کہنا تھا کہ روزے کی حالت میں شوگر چیک کرنے، انجکشن لگوانے اور ڈرپ لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا جبکہ قے آنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی مریض روزے دار کی

حالت خراب ہو جائے تو اسے اپنے معالج کے مشورے سے روزہ توڑ دینا چاہیے۔بقائی انسٹیٹیوٹ سے وابستہ غذائی امور کی ماہر ربعہ امتیاز کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر لوگوں کو صحت مند اور متوازن غذا کا استعمال کرنا چاہیے جبکہ ذیابطیس کے مریضوں کو چاہیے کہ وہ نشاستہ دار اور چکنائی والی غذاؤں سے پرہیز کرتے ہوئے پھلوں سبزیوں دودھ، دہی اور لسی کا استعمال کریں۔انہوں نے مزید کہا چونکہ رمضان اس سال شدید گرمی کے موسم میں آرہا ہے تو سحر و افطار کے دوران زیادہ سے زیادہ پانی پئیںں اور کولڈ ڈرنکس کا استعمال کم سے کم کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…