جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

کرونا وائرس منہ اور ناک کے علاوہ جسم کے کس حصے سے داخل ہوسکتا ہے؟ اگر آپ کی جانب کسی ایسے شخص کی چھینک آئے تو سائنسدانوں نے اس پھیلنے کی خوفناک وجہ بیان کر دی

datetime 29  جنوری‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا کو تیزی سے پھیلتے ہوئے مہلک کرونا وائرس سے نبرد آزما ہونا پڑ رہا ہے، تاہم سائنسدانوں نے اس کے پھیلنے کی وجہ بھی بتادی۔روزنامہ جنگ میں شائع رپورٹ کے مطابق غیر ملکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس انسانی جسم میں آنکھوں کی مدد سے داخل ہوجاتا ہے۔چینی ڈاکٹر وانگ گنگفا نے انکشاف کیا کہ انہیں بھی یہ وائرس لاحق ہوسکتا ہے کیونکہ انہوں نے وائرس سے

بچنے والے چشمے نہیں پہنے ہوئے تھے۔ماہرین نے اس بات کی تصدیق بھی کی اور متنبہ کیا کہ چھینکوں اور کھانسی سے پھینلے والا یہ مرض نہ صرف آنکھ بلکہ آنکھوں سے بھی انسانی جسم میں داخل ہوسکتا ہے۔ایک برِ اعظم سے دوسرے برِ اعظم تک پھیلنے والے اس وائرس کی وجہ سے صرف چین میں ہی درجوں افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے ہیں۔امریکا، جاپان، تائیوان، جنوبی کوریا اور دیگر یورپی ممالک سمیت ایک ہزار سے زائد افراد اس وائرس کا شکار ہوکر اسپتالوں میں علاج کے لیے منتقل کیے جاچکے ہیں۔امپیریئل کالج لندن میں وائرس جینومکس کے پروفیسر پال کیلام نے وائرس کی آنکھوں کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہونے کی تصدیق کردی۔ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ کی جانب کسی ایسے شخص کی چھینک آئے تو یہ وائرس لے کر آپ کی جانب آسکتی ہے، اس کی وجہ سے پہلے آنکھیں جلنے لگیں گی یہ لیکریمل ڈکٹ کے ذریعے ناک تک پہنچے گی، پھر سانس میں شامل ہو جائے گی اور ساتھ ساتھ آپ کو بھی چھینکیں لگنا شروع ہوجائیں گی۔اگر آپ آنکھوں کی دوا لیں تو آپ اس دوا کے ذائقے کو اپنے حلق کے اندر تک محسوس کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ اس طرح فلو یا دیگر وائرسز کا پھیلنا غیر معلمولی بات نہیں ہے، آپ کو آنکھوں کی وجہ سے بھی سانس لینے کے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔پروفیسر پال کیلام نے تجویز پیش کی کہ ڈاکٹر یا طبی امداد فراہم کرنے والا عملہ اس سے بچنے کے لیے لازمی چشموں کا استعمال کرے۔اس معاملے میں ماسک جو آپ کے منہ اور ناک کو تو حفاظت فراہم کرتا ہے لیکن واضح طور پر یہ آنکھوں کی حفاظت نہیں کرتا۔پروفیسر پال کیلام کے اس دعوے کی یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن کے سینیئر ریسرچر ڈاکٹر مائیکل ہیڈ نے تائید کی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…