جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

چین سے پاکستان آنے والے مسافروں کا طبی معائنہ لازمی قرار ، مہلک کرونا وائرس پھیلنے کے بعد پاکستان میں ہائی الرٹ جاری

datetime 22  جنوری‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)چین سے پراسرار مہلک وائرس کی پاکستان منتقلی کے خدشے کو پیش نظر رکھتے ہوئے قومی ادارہ صحت نے الرٹ جاری کردیاہے۔تفصیلات کے مطابق چین سے کرونا وائرس کی پاکستان منتقلی کے خدشے کے تحت قومی ادارہ صحت نے ہدایت نامہ جاری کردیا ہے ۔

اس ہدایت نامے میں کہا گیاہے کہ چین سے پاکستان آنے والے مسافروں کا طبی معائنہ لازمی ہوگا۔اس سلسلے میں کراچی سمیت ملک کے تمام ہوائی اڈوں پر خصوصی اسکریننگ ڈیسک تشکیل دیئے جائیں گے۔ ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ د نیا میں کرونا وائرس کی ویکسین تاحال دستیاب نہیں ہے لہذا وائرس سے بچائو کا واحد حل بروقت احتیاطی تدابیر ہیں۔کراچی ایئرپورٹ منیجر کے مطابق کرونا وائرس اسکریننگ صرف چین سے آنے والی پروازوں کے مسافروں کا کیا جائے گا ۔کرونا وائرس کے سکریننگ کے آلات ہمارے پاس پہلے سے موجود ہیں جبکہ سکریننگ ڈیسک کے ساتھ ماہر ڈاکٹرز بھی موجود ہیں۔ وائرس کی تشخیص ہونے پر متاثرہ مریض کو اسپتال منتقل کیا جائے گا۔دوسری جانب چینی حکام نے بھی اپنے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس وبا کو روکنے کے لئے اندرون و بیرون ملک سفر سے گریز کریں۔اس وائرس سے اب تک 9افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔حکام نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ وائرس کی انسان سے انسان میں منتقلی ہوئی ہے۔اس وبا کا مرکز چینی شہر ووہان ہے ، جس کی آبادی 8.9 ملین کے قریب ہے ۔ یہ نیا وائرس ووہان سے لے کر چین کے کئی صوبوں سمیت تھائی لینڈ ، امریکہ اور جنوبی کوریاتک پھیل چکا ہے۔

چینی محکمہ صحت کے مطابق اس وائرس کے پھیلائو کے روکنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جارہے ہیں ۔اس وبا کا آغاز اس وقت ہوا ہے جب پورے چین میں لاکھوں افراد قمری سال نو کی چھٹیاں منانے کے لئے اندرون ملک سفر کررہے ہیں ، جبکہ ہزاروں افراد اپنے دوستوں اور اہل خانہ کے ہمراہ بیرون ملک بھی سفر کررہے ہیں۔ماہرین کے مطابق کھانسی ، گلے کی سوجن ، ناک بہنا اور بخار سمیت متعدد علامات کرونا وائرس کا سبب بن سکتی ہیں ۔ جبکہ ہلکی علامات میں عام سردی شامل ہے ، جبکہ نمونیا کی صورت میں یہ سنگین شکل اختیار کرسکتا ہے ۔ یہ وائرس عام طور پر متاثرہ شخص سے براہ راست رابطے کے ذریعے دوسرے فرد میں منتقل ہوتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…