پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

لاہور: دو روز میں پولیو کے دو کیسز سامنے آ گئے ،تیرہ ماہ کی بچی کے پولیو وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق

datetime 3  مئی‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی)صوبائی دارالحکومت لاہور میں دو روز میں پولیو کے دو کیسز سامنے آگئے ،قومی ادارہ صحت نے لاہور میں تیرہ ماہ بچی کے پولیو وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کردی جس کے بعد رواں برس اب تک ملک میں پولیو وائرس سے متاثر ہونے والے بچوں کی مجموعی تعداد 10ہوگئی،وزیر اعلیٰ پنجاب نے لاہور میں پولیو کے کیسز سامنے آنے کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ صحت سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ لاہور میں مسلسل دوسرے روز سامنے آنے والے کیس کے بعد شہر میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 3 تک پہنچ چکی ہے۔بتایا گیا ہے کہ تیرہ ماہ کی حفظہ کے پولیو وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔حکام کے مطابق مذکورہ بچی سے نمونے 17 اپریل کو لیے گئے تھے لیکن وائرس کی علامت ظاہر ہونے میں 3 ہفتوں کا عرصہ درکار ہوتا ہے جس کے باعث اس بات کی تصدیق ہوسکی کہ یہ بچی پولیو کے باعث معذوری کا شکار ہوچکی ہے۔اس ضمن میں وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو بابر بن عطا کا کہنا تھا کہ لاہور سے مزید ایک کیس سامنے آنے کے بعد صرف 2019 میں پولیو کیسز کی تعداد 10 تک پہنچ چکی ہے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عوام کی جانب سے ویکسی نیشن میں مزاحمت اس مرض کے 100 فیصد خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔لوگ نہ صرف انسدادِ پولیو مہم میں رکاوٹ بنتے ہیں بلکہ ویکسی نیشن سے بچنے کے لیے ہر طرح کا حربہ استعمال کرتے ہیں، اسی طرح کا واقعہ حالیہ مہم کے دوران پشاور میں پیش آیا۔بابر بن عطا کا مزید کہنا تھا کہ آزادانہ نگرانی کے بورڈ کی گزشتہ رپورٹ میں پولیو کے قطرے پلانے کے پروگرام میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی جن میں سے ایک عوام کی طرف سے مزاحمت کرنا بھی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے لاہور میں پولیو کے کیسز سامنے آنے کا نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ اور متعلقہ اداروں پر برہمی کا اظہار کیا ہے ۔وزیراعلی عثمان بزدار نے محکمہ صحت سے رپورٹ بھی طلب کر لی۔وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ لاہورمیں پولیو کا کیس سامنے آنا انتہائی تشویشناک امر ہے، انسداد پولیو کے لئے مربوط اقدامات میں مزید تیزی لائی جائے، انسداد پولیو کیلئے کئے جانے والے اقدامات میں غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ۔ انہوں نے

کہا کہ قوم کے مستقبل کو پولیو جیسی مہلک بیماری سے بچانا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، متعلقہ محکموں اور اداروں کو باہمی رابطوں کو مضبوط بنا کر رزلٹ دینا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ انسداد پولیوکے اقدامات سے آگاہی کے لئے بھرپور مہم چلائی جائے،پنجاب سمیت پاکستان کو پولیو فری بنانا ہمارا مشن ہے۔ متعلقہ اداروں اورمحکموں کو بچوں کو پولیوسے بچانے کے لئے عملی طورپر محنت اور جانفشانی سے کام کرنا ہوگا۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…