جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

موبائل فون کے بے جا استعمال کی وجہ سے کون سی خطرناک بیماری پھیل رہی ہے؟ خاص طورپر بچوں میں کون سے امراض پیداہورہے ہیں؟ماہرین کے انتہائی تشویشناک انکشافات

datetime 29  مارچ‬‮  2019 |

پشاور(آن لائن) موبائل فون کے بے جا استعمال اور ہینڈ فری کے حد سے زیادہ استعمال کے باعث بہر ہ پن کا مرض پاکستان میں شدت اختیارکر رہاہے۔جبکہ بچوں کو کا ن پر تھپڑ مارنے سے بھی بہر ہ پن میں اضافہ ہو رہا ہے۔ والدین ، اساتذہ کی لا علمی کے باعث بچوں کو کانوں پر تھپڑ مارے جا رہے ہیں بہر ہ پن کی بڑی وجہ شوگر بھی ہے۔ سارک ممالک میں بہرہ پن جیسے امراض بہت تیزی سے شدت اختیارکررہے ہیں۔ آگاہی کی کمی کے باعث پاکستان میں مرض شدت اختیار کر رہاہے۔ ماہرین صحت کے مطابق گلہ ،کان ، ناک

کے امراض جس تیزی سے شدت اختیارکررہے ہیں اس حوالے سے لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے بچوں کو کان پرتھپڑ مارنے سے گریز کیاجائے۔ بیشتر بچوں کو کان پر تھپڑ لگنے کے باعث پردے میں سوراخ ہو جاتا ہے اور بچوں کے کان سے خون نکلتا ہے۔ پھر آپریشن کے ذریعے نیا پردہ لگانا پڑتا ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں اور پرائیویٹ مقامات ، مستریوں کے پا س کام کرنے والے شاگردوں کو بیشتر اوقات اساتذہ یا سینئر کانوں پرتھپڑ مار رہے ہیں۔ جس کے باعث بیشتر بچوں کے کان کے پردے پھٹ جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…