بدھ‬‮ ، 17 جون‬‮ 2026 

بے ربط اورطویل گفتگو دماغی بیماری کی علامت ہے : نفسیاتی ماہرین

datetime 16  جنوری‬‮  2019 |

امریکا(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا کے میساچیوسٹس جنرل اسپتال کے نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل اور بے ربط گفتگو الزائیمر اور ڈیمنشیا جیسی دماغی بیماریوں کی ابتدائی علامت ہوتی ہے۔اس تحقیق کے نتائج انہوں نے گزشتہ دنوں بوسٹن میں ’’امریکن ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف سائنس‘‘ (AAAS) کے سالانہ اجلاس میں پیش کیے جن کے مطابق دماغ کو متاثر کرنے والے امراض کی

کچھ اہم ظاہری علامات تقریباً دس سال پہلے ہی نمودار ہونے لگتی ہیں جنہیں پیش نظر رکھتے ہوئے ایسے افراد پر زیادہ توجہ دی جاسکتی ہے۔اب تک مروجہ نفسیاتی معالجے (سائیکاٹری) میں دماغی بیماریوں کا کوئی باضابطہ علاج موجود نہیں اور اس ضمن میں دی جانے والی دوائیں زیادہ سے زیادہ بیماری کی پیش رفت ضرور سست کردیتی ہیں لیکن انہیں کسی بھی صورت میں ایسے امراض کا علاج قرار نہیں دیا جاتا۔میساچیوسٹس جنرل اسپتال کی جینٹ شرمن کی قیادت میں کیے گئے ایک مطالعے میں دماغی طور پر 24 صحت مند اور نوجوان افراد جبکہ 22 ایسے افراد شریک کیے گئے جو ایسے ادھیڑ عمر ہونے کے ساتھ ساتھ ’’ایم سی آئی‘‘ نامی ایک کیفیت کا شکار بھی تھے یعنی وہ نفسیاتی امراض کے دہانے پر پہنچ چکے تھے۔ان افراد میں گفتگو کے انداز اور لفظوں کے استعمال کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ صحت مند افراد دوران گفتگو ایک جیسے الفاظ کا بار بار استعمال کرنے سے بچتے ہیں جبکہ ان کی گفتگو بھی غیر ضروری طور پر طویل نہیں ہوتی۔ دوسری جانب ایم سی آئی میں مبتلا افراد کی گفتگو زیادہ طویل تھی جبکہ وہ یکساں الفاظ کا استعمال بھی بار بار کررہے تھے جس سے ظاہر ہوا کہ وہ الفاظ بھولتے جارہے ہیں۔شرمن نے واضح کیا کہ ان کے مطالعے کا تعلق ان افراد سے نہیں جو باتونی مزاج ہوتے ہیں اور عادتاً لمبی لمبی گفتگو کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، ان کے مطالعے میں یہ جائزہ لیا گیا ہے کہ معمول کی گفتگو کرنے والوں کی باتیں طویل اور بے ربط ہوجائیں اور وہ ایک جیسے الفاظ کا استعمال بار بار کرنے لگیں تو ان کے ارد گرد موجود لوگوں کو ہوشیار ہوجانا چاہیے۔ علاوہ ازیں ایسے لوگوں میں پیچیدہ باتیں سمجھنے اور پیچیدہ امور انجام دینے کی صلاحیت بھی دوسروں کے مقابلے میں کم ہونے لگتی ہے۔دماغی امراض کی دیگر ابتدائی علامات

میں وقت اور جگہ کے بارے میں کنفیوژن، معمول کے کاموں میں دشواری، قوتِ فیصلہ میں کمی، شخصیت یا طرزِ عمل میں تبدیلی، چیزیں رکھ کر بھول جانا، تخیل کے استعمال میں مشکلات، یادداشت میں کمی اور روزمرہ کاموں پر اس کے اثرات سب سے نمایاں طور پر دیکھے جاتے ہیں۔

اگرچہ اس مرحلے پر ان لوگوں کو ذہنی طور پر بیمار نہیں کہا جاسکتا لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دس سال کے اندر اندر ایسی علامات رکھنے والوں کو کسی سنجیدہ نوعیت کی دماغی بیماری کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جو الزائیمر سے لے کر ڈیمنشیا تک، کچھ بھی ہوسکتی ہے



کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…