بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا میں تولیدی صلاحیت میں کمی کے باوجود آبادی میں مسلسل اضافہ

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ‘سیو دی چلڈرن‘ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 1950 کے بعد سے دنیا بھر میں مجموعی طور پر اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت (فرٹیلیٹی یا تولیدی صلاحیت) گھٹ کر آدھی رہ گئی ہے لیکن اس کے باوجود آبادی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ مذکورہ تحقیق میں 172 ممالک کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

جس میں یہ بات سامنے آئی کہ ایک خاتون کی زندگی میں بچوں کی تعداد اوسطاً 2.4 ہوگئی ہے جو 1950میں 4.7 فی خاتون تھی۔ دوسری جانب عالمی آبادی سال 1950 میں 2.6 ارب تھی جو اب 3 گنا اضافے کے بعد 7.6 ارب ہوچکی ہے، جس میں 1985 سے لے کر اب تک اوسطاً ہرسال 8 کروڑ 40 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا ہے۔ ضربِ تولید کی ضرورت ہے رپورٹ مرتب کرنے والے محقق اور واشنگٹن یونیورسٹی میں انسٹیٹیوٹ فار ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایویلوایشن کے ڈائریکٹر ’ ڈاکٹر کرسٹوفر مورے‘ کا کہنا ہے کہ باوجود اس کے کہ اب خواتین زیادہ تعلیم یافتہ اور متحرک ہیں اور ان کو صحت کی بہتر سہولیات میسر ہیں لیکن حیرت انگیز طور پر تولیدی صلاحیت میں بہت زیادہ کمی آئی ہے۔ رپورٹ میں اس کی وجوہات میں جن چیزوں کا تذکرہ کیا گیا ہے اس میں نومولود بچوں کی شرح اموات میں کمی اور دیر سے شادی ہونا شامل ہیں۔ اس ضمن میں عالمی ادارہ صحت کے شعبہ انسانی تولید اور تحقیق کے معاون ’ڈاکٹر جیمز کیاری‘کا کہنا تھا کہ’ خواتین کی شادی کرنے کی عمر میں اضافہ ہورہا ہے‘ جبکہ شادی ہی دنیا بھر میں شرح پیدائش کا بنیادی محرک ہے۔ دنیا کی آبادی 7 ارب 40 کروڑ سے تجاوز رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق جہاں دنیا کے 195 ممالک میں شرح تولید میں کمی آئی ہے وہیں ایک نسل کے دوسری نسل کی جگہ لینے کی شرح ایک طر ف زیادہ اور ایک طرف کم ہو کر بالکل دو حصوں میں بٹ گئی ہے۔

مثال کے طور پر سال 2017 میں سائپرس میں تولیدی صلاحیت کی شرح سب سے کم یعنی فی خاتون ایک بچے کی اوسط تھی وہیں نائجیریا میں یہ اوسط فی خاتون 7 بچے تھی، اس طرح شرح پیدائش کے حوالے سے دنیا دو حصوں میں تقسیم ہے۔ اس سلسلے میں کم شرح پیدائش والے ممالک خاندان کے لیے مالی فوائد اور والدین کو چھٹیاں دینے جیسے مواقع فراہم کرتے ہیں اس کے باوجود اس کے اثرات نہایت کم ہیں جس کے نتیجے میں یورپ کے 33

ممالک میں 2010 سے اب تک آبادی میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ فکر چین میں پائی جاتی ہے جہاں کام کرنے والے افراد کی تعداد گھٹنا شروع ہوچکی ہے جس کا سب پہلا اثر معاشی نمو کی صلاحیت پڑے گا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے عالمی آبادی میں کمی آنے کا امکان ہے بلکہ اقوامِ متحدہ کی گزشتہ سال کی رپورٹ کے مطابق 2050 تک دنیا کی آبادی بڑھ کر 9.8 ارب ہوجائے گی، جس میں زیادہ تر اضافہ افریقہ میں ہونے کی توقع ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…