بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

بچوں کو چھاتی کا دودھ کتنے عرصے تک پلایا جاسکتا ہے؟

datetime 26  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چھاتی کا دودھ اس غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے جو بچوں کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہے اور شیر خوار بچوں کی اچانک موت (SIDS)، کانوں کے انفیکشن، ذیابیطس اور دیگر امراض سے بچاتی ہے جبکہ نفسیاتی مسائل کا خطرہ بھی کم کردیتی ہے۔

اس کا ماں کی صحت پر بھی مثبت اثر پڑتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے بیضہ دانی اور چھاتی کے کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ پیدائش کے بعد رحم سے خون آنے میں کمی ہوتی ہے اور اضافی کیلوریز جلتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت ابتدائی 6 ماہ تک صرف چھاتی کا دودھ پلانے پر زور دیتا ہے جس کے بعد دیگر چیزیں غذا میں شامل کی جاسکتی ہیں۔ چھاتی کا دودھ کم از کم ایک سال تک ضرور پلایا جانا چاہیے۔ اس کے بعد اگر ماں اور بچہ دونوں چاہیں تو یہ سلسلہ 2 سال کی عمر تک جاری رہ سکتا ہے۔ گھر پر رہنے والی مائیں اپنے بچوں کو زیادہ دودھ پلا سکتی ہیں جبکہ ایک ملازمت پیشہ عورت شاید پورے 2 سال تک دودھ نہ پلاسکے۔ مگر ڈاکٹروں کے مطابق یہ ماؤں کی ایک ایسی سُپر پاور ہے جسے زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جانا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق اگر آپ کا بچہ 6 ماہ کی عمر کے بعد بھی چھاتی کے دودھ کا خواہشمند ہو تو آپ کو اس کے علاوہ سپلیمینٹس بھی شامل کرنے چاہیئں۔ ایسا نہیں ہے کہ چھاتی کا دودھ اپنی غذائی قدر کھو دیتا ہے بلکہ اس لیے کیونکہ بچوں کو دیگر غذائیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ محققین کہتے ہیں کہ چونکہ انسان چھاتی کا دودھ پلانے کے بعد بھی ایک طویل عرصے تک بچوں کی نگہداشت جاری رکھتے ہیں اس لیے ماں کے دودھ کی کوئی ایکسپائری ڈیٹ نہیں ہوتی۔ چنانچہ یہ سلسلہ ماں اور بچے کی رضامندی سے جاری رکھا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…