اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

آپریشن سے بچے کی پیدائش :ایک عالمی وباء ہے

datetime 20  اکتوبر‬‮  2018 |

نیویارک (این این آئی)ایک تحقیق کے مطابق لاکھوں خواتین بچوں کی پیدائش کے لیے غیر ضروری طور پر آپریشن کراتی ہیں جبکہ ان کے ہاں بچے کی پیدائش محفوظ قدرتی طور پر بھی ممکن ہوتی ہے۔ خبردار کیا گیا ہے کہ یہ آپریشن زیادہ تر خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ایک نئی تحقیق کے نتائج کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں خواتین بچوں کی پیدائش کی خاطر غیر ضروری اور ممکنہ طور پر

خطرناک آپریشن کروا رہی ہیں۔ اس مطالعہ کے مطابق البتہ ان میں سے بہت سے خواتین قدرتی طریقے سے بچے کی پیدائش کر سکتی ہیں۔اس ریسرچ کے مطابق اختیاری آپریشن کے ذریعے بچوں کی پیدائش عالمی سطح پر ایک وباء بن چکی ہے۔اس تحقیق کے مطابق 2000 تا 2015 آپریشن سے بچوں کی پیدائش کے عالمی کیسوں میں تقریبا دو گنا اضافہ ہوا ہے۔ زچگی کے دوران طبی پیچیدگیوں سے نمٹنے کی خاطرسی سیکشن یعنی آپریشن اہم ثابت ہوتا ہے۔تاہم غیر ضروری طور پر ایسے آپریشنز کی وجہ سے صحت عامہ کے شعبے میں قلیل اور طویل المدتی اثرات سے نمٹنے کی خاطر زیادہ رقوم درکار ہوتی ہیں۔دی لینسیٹ میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق دس تا پندرہ فیصد کیسوں میں سرجری کی ضرورت ہوتی ہے تاہم 2000 میں تقریبا بارہ فیصد سی سیکشن کیے گئے جبکہ 2015 تک ایسے آپریشنز کی شرح اکیس فیصد تک پہنچ گئی۔عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کے اعدادوشمار کے مطابق 169 ممالک میں ناہمواریاں نوٹ کی گئی ہیں۔ ساٹھ فیصد ممالک میں بچوں کی پیدائش کی خاطر آپریشن کیے گئے جبکہ پچیس فیصد ممالک میں ضرورت کے باوجود آپریشن نہیں کیے گئے۔اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ایسی خواتین جو مالی لحاظ سے بہتر ہیں، بچوں کی پیدائش کے لیے ان میں آپریشن کرانے کی شرح زیادہ ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ کچھ ممالک میں بچوں کی پیدائش کی خاطر سرجری کرانا دراصل ’فیشن ایبل‘ اور ’ماڈرن‘ ہونے کی علامت تصور کی جاتی ہے۔اس تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایسے غیر ضروری آپریشنز ماؤں کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں، اس لیے ان کو روکنے کی خاطر حکومتی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ خواتین کو سی سیکشن اور قدرتی طریقے سے بچے کی پیدائش کے حوالے سے زیادہ معلومات فراہم کرنا چاہییں تاکہ وہ اپنے لیے درست فیصلہ کر سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…