منگل‬‮ ، 16 جون‬‮ 2026 

ریبیز کیا ہے اور اس سے بچاؤ کیسے ممکن؟

datetime 29  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس وقت دوکروڑ 90 لاکھ سے زائد افراد ‘ریبیز’ جیسے جان لیوا مرض میں مبتلا ہیں اور آج ورلڈ ریبیز ڈے منایا جا رہا ہے ۔ پاکستان میں کتے، بلی، لومڑی جیسے جانوروں کے کاٹنے سے ہر سال 5 ہزار افراد ریبیز کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں اور اکثر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ عرف عام میں باؤلاپن کہلائے جانے والا یہ مرض

باؤلے کتے،بلی اور لومڑی کے کاٹنے سے انسان میں پھیلنے والی ایک وائرل بیماری ہے جو دماغ کی سوجن کا سبب بنتی ہے۔ علامات: اس بیماری ابتدائی علامات میں بخار اور اکسپوزر کے مقام پر سنسناہٹ شامل ہو سکتی ہے اور ان علامات کے بعد پرتشدد سرگرمی، بے قابو اشتعال، پانی کا خوف، جسم کے اعضاء کو ہلانے کی ناقابلیت، ذہنی انتشار اور ہوش کھونا جیسی کوئی ایک یا کئی علامات ہو تی ہیں۔ علامات ظاہر ہونے کے بعد، ریبیز کا علاج کافی مشکل ہوتا ہے ۔مرض کی منتقلی اور علامات کے آغاز کے درمیان کی مدت عام طور پر ایک سے تین ماہ ہوتی ہے۔ تاہم، یہ وقت کی مدت ایک ہفتے سے کم سے لے کر ایک سال سے زیادہ تک میں بدل سکتی ہے۔ علاج: ریبیز سے بچنے کے لیے ایک ٹیکہ یعنی انجکشن موجود ہے جو ریبیز کی روک تھام میں استعمال کیا جاتا ہے۔یہ بڑی تعداد میں مارکیٹ اور اسپتالوں میں دستیاب ہیں جو محفوظ اور مؤثر دونوں ہیں۔ قومی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال پانچ ہزار پاکستانی اس مرض کا شکار ہوتے ہیں ۔اسلام آباد میں ریبیز کے بارے میں آگاہی کے لیے قومی ادارہ صحت نے واک کا اہتمام کیا۔ واک میں لوگوں کو بتایا گیا کہ اگر کوئی جانور کاٹ لے تو زخم کو فوری طور پر صابن سے دھویا جائے اور بروقت علاج کرائیں ۔ پاکستان میں سب سے زیادہ گزشتہ سال سندھ میں کتا کاٹنے کے باعث دو لاکھ افراد نے ہسپتالوں کا رخ کیا۔ ڈاکٹر زکا کہنا ہے کہ یہ وائرس پالتو جانوروں سمیت جنگلی جانوروں اور کتوں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہو کر سنٹرل نروس سسٹم کو تباہ کر دیتاہے اگر بروقت علاج نہ کروایا جائے تو دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور متاثرہ فرد کی موت ہو جاتی ہے۔ سینئر سائنٹیفک آفیسر قومی ادارہ صحت ڈاکٹر ممتازعلی خان کے مطابق یہ مرض ایک بندے سے دوسرے میں بھی منتقل ہو سکتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…