پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

زندگی سے مایوسی بن سکتی ہے موت کا باعث

datetime 28  ستمبر‬‮  2018 |

برطانیہ(مانیٹرنگ ڈیسک)  اگر لوگوں کے اندر زندگی کی خواہش ختم ہوجائے تو وہ چند دنوں کے اندر ہی جہان فانی سے کوچ کرسکتے ہیں۔ یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ پورٹس ماﺅتھ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ‘زندگی سے امید ختم ہوجانا’ ایک حقیقی طبی عارضہ ہے۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ زندگی میں کسی المناک واقعے کے محض 3 دن

بعد کسی شخص کا انتقال اس صورت میں ہوسکتا ہے، جب وہ ماننے لگے کہ وہ اس کے اثرات سے باہر نہیں نکل سکے گا۔ محققین کے مطابق جب کسی شخص کے اندر زندگی کی خواہش ختم ہوجاتی ہے تو دماغ کے اس حصے میں سرگرمیاں تبدیل ہوتی ہیں، جو کسی کے اندر اپنا خیال رکھنے کا عزم جگاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ خودکشی نہیں اور نہ ہی یہ ڈپریشن ہے، مگر زندگی سے ہار مان لینے پر چند دنوں میں موت واقع ہوجاتی ہے اور یہ ایک ایسا عارضہ ہے جس کا تعلق شدید ٹراما سے جڑا ہوتا ہے۔ اس تحقیق کے دوران دریافت کیا گیا کہ اس عارضے کے 5 مراحل ہوتے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی فرد کی زندگی میں آگے کیا ہوسکتا ہے۔ اس عارضے کا آغاز معاشرے سے الگ تھلک ہوجانے سے ہوتا ہے، جس کے بعد خود کو دیکھنے یا خیال رکھنے کی خواہش بھی جلد ختم ہوجاتی ہے۔ تیسرے مرحلے میں مریض کے اندر فیصلہ کرنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے جبکہ چوتھے مرحلے میں دماغی طور پر ایسے بے خبر ہوجاتے ہیں کہ اپنے فضلے پر بھی بیٹھ جاتے ہیں۔ آخری مرحلہ ذہنی موت کو قرار دیا گیا ہے جب کسی شخص کے اندر زندگی کی خواہش مکمل طور پر ختم ہوجاتی ہے۔ محققین نے بتایا کہ کوئی بہت زیادہ المناک واقعہ دماغ میں اس طرح کی تبدیلیاں لاتا ہے اور اس موقع پر رشتے داروں کی ہمدردی اور دیکھ بھال کسی کی حالت میں بہتری لانے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل میڈیکل Hypotheses میں شائع ہوئے۔

موضوعات:



کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…