ہفتہ‬‮ ، 01 اگست‬‮ 2026 

زندگی سے مایوسی بن سکتی ہے موت کا باعث

datetime 28  ستمبر‬‮  2018 |

برطانیہ(مانیٹرنگ ڈیسک)  اگر لوگوں کے اندر زندگی کی خواہش ختم ہوجائے تو وہ چند دنوں کے اندر ہی جہان فانی سے کوچ کرسکتے ہیں۔ یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ پورٹس ماﺅتھ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ‘زندگی سے امید ختم ہوجانا’ ایک حقیقی طبی عارضہ ہے۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ زندگی میں کسی المناک واقعے کے محض 3 دن

بعد کسی شخص کا انتقال اس صورت میں ہوسکتا ہے، جب وہ ماننے لگے کہ وہ اس کے اثرات سے باہر نہیں نکل سکے گا۔ محققین کے مطابق جب کسی شخص کے اندر زندگی کی خواہش ختم ہوجاتی ہے تو دماغ کے اس حصے میں سرگرمیاں تبدیل ہوتی ہیں، جو کسی کے اندر اپنا خیال رکھنے کا عزم جگاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ خودکشی نہیں اور نہ ہی یہ ڈپریشن ہے، مگر زندگی سے ہار مان لینے پر چند دنوں میں موت واقع ہوجاتی ہے اور یہ ایک ایسا عارضہ ہے جس کا تعلق شدید ٹراما سے جڑا ہوتا ہے۔ اس تحقیق کے دوران دریافت کیا گیا کہ اس عارضے کے 5 مراحل ہوتے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی فرد کی زندگی میں آگے کیا ہوسکتا ہے۔ اس عارضے کا آغاز معاشرے سے الگ تھلک ہوجانے سے ہوتا ہے، جس کے بعد خود کو دیکھنے یا خیال رکھنے کی خواہش بھی جلد ختم ہوجاتی ہے۔ تیسرے مرحلے میں مریض کے اندر فیصلہ کرنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے جبکہ چوتھے مرحلے میں دماغی طور پر ایسے بے خبر ہوجاتے ہیں کہ اپنے فضلے پر بھی بیٹھ جاتے ہیں۔ آخری مرحلہ ذہنی موت کو قرار دیا گیا ہے جب کسی شخص کے اندر زندگی کی خواہش مکمل طور پر ختم ہوجاتی ہے۔ محققین نے بتایا کہ کوئی بہت زیادہ المناک واقعہ دماغ میں اس طرح کی تبدیلیاں لاتا ہے اور اس موقع پر رشتے داروں کی ہمدردی اور دیکھ بھال کسی کی حالت میں بہتری لانے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل میڈیکل Hypotheses میں شائع ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…