بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

انجری سے مفلوج افراد کیلئے اب چل پانا ہوگا ممکن

datetime 26  ستمبر‬‮  2018 |

برطانیہ(مانیٹرنگ ڈیسک) ریڑھ کی ہڈی پر انجری کے نتیجے میں مفلوج ہوجانے والے افراد اب ایک بار پھر چل سکیں گے اور ایسا سائنسدانوں کی تیار کردہ ایک ڈیوائس کی بدولت ممکن ہوسکے گا۔ طبی جریدے نیچرڈے میڈیسین اور نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع مقالہ جات میں تحقیقی ٹیم نے بتایا کہ ریڑھ کی ہڈی پر انجری کے باعث مفلوج ہوجانے والے متعدد مریض اس ڈیوائس کی

بدولت ایک بار پھر چلنے کے قابل ہوگئے، جو ان کی ریڑھ کی ہڈی میں نصب کی گئی۔ یہ ڈیوائس بنیادی طور پر درد پر کنٹرول کے لیے تیار کی گئی تھی، جس میں 16 الیکٹروڈز موجود ہیں جو ریڑھ کی ہڈی کے متاثرہ حصے کے بالکل نیچے نصب کی جاتی ہے، جہاں سے وہ ٹانگوں کو حسی حرکی (sensorimotor) سگنل بھیجتی ہے۔ ایک بیٹری کو معدے کی دیوار کے اندر نصب کیا جاتا ہے، جسے وائرلیس طریقے سے متحرک کیا جاسکتا ہے، جب وہ متحرک ہوتی ہے تو ڈیوائس کو دماغی سگنل مطلوبہ مسلز تک پہنچانے میں مدد ملتی ہے، تاکہ معذور شخص ایک بار پھر چل سکے۔ تحقیقاتی ٹیم کا کہنا تھا کہ یہ ڈیوائس کسی نقصان کی بھرپائی نہیں کرتی بلکہ یہ دماغی سگنل کی گردش کو مدد فراہم کرتی ہے۔ تاہم یہ فوری حل نہیں بلکہ مریضوں کو اس کے لیے طویل اور سخت جسمانی تھراپی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے، جس کے بعد وہ چلنے کے قابل ہوپاتے ہیں۔ اسی طرح یہ ہر ایک کے لیے کارآمد نہیں، تحقیق میں شامل 2 رضاکار اس ڈیوائس کے لگنے کے باوجود دوبارہ چلنا نہیں سیکھ پائے، تاہم ان کے کھڑے ہونے، خود کو سیدھا کھڑا کرنے اور ٹانگوں کو ہلانے میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔ تحقیقی ٹیم کے مطابق یہ نتائج تاریخ ساز ہیں اور اس سے ان افراد کے لیے نئی امید پیدا ہوگی جن کے بارے میں سوچا جاتا ہے کہ اب وہ کبھی نہیں چل سکیں گے۔ اب تحقیقی ٹیم کے لیے بڑا چیلنج یہ سمجھنا ہے کہ یہ ڈیوائس کس طرح کام کرتی ہے، جب وہ اس کو بہتر طریقے سے ہینڈل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے تو اس تحقیق کو دیگر انجری کے شکار مریضوں تک تو وسعت دی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…