ہفتہ‬‮ ، 07 مارچ‬‮ 2026 

توند سے نجات ناشتے کا وقت بدلنے سے بھی ممکن

datetime 31  اگست‬‮  2018 |

برطانیہ(مانیٹرنگ ڈیسک) اگر آپ توند کی چربی سے نجات چاہتے ہیں تو اپنے ناشتے اور رات کے کھانے کے وقت میں تبدیلی لاکر اس مقصد میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ سرے یونیورسٹی کی تحقیق میں غذاﺅں کے اوقات کے جسم پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا، جبکہ دیکھا گیا کہ اس سے ذیابیطس اور

امراض قلب کا خطرہ کتنا کم یا زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق کے دوران رضاکاروں کو 2 گروپس میں تقسیم کیا گیا، ایک گروپ کو معمول کے وقت سے ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سے ناشتہ کرنے کی ہدایت کی گئی جبکہ دوسرے گروپ کو ڈیڑھ گھنٹے پہلے ناشتہ کرنے کا کہا گیا۔ اس افراد کے خون کے نمونے 10 ہفتے کی تحقیق کے دوران کئی بار لیے گئے اور سوالنامے بھروائے گئے۔ ناشتہ نہ کرنا جسم پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے؟ نتائج سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے اپنے کھانے کے اوقات کو تبدیل کیا انہوں نے جسمانی چربی کم غذا کھانے والوں کے مقابلے میں دوگنا زیادہ گھلائی۔ اس تحقیق کے دوران لوگوں پر یہ پابندی نہیں لگائی گئی تھی کہ وہ اپنی غذا میں کیا کھا سکتے ہیں۔ تاہم محققین نے دریافت کیا کہ جن لوگوں نے اپنے کھانے کے اوقات کو بدلا، انہوں نے مجموعی طور پر کم مقدار میں غذا کو جزو بدن بنایا۔ محققین کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ تحقیق چھوٹے پیمانے پر تھی مگر اس سے عندیہ ملتا ہے کہ کھانے کے اوقات میں معمولی تبدیلی بھی ہمارے جسموں کے لیے کتنی فائدہ مند ہوسکتی ہے خصوصاً توند کی چربی کو گھلانے کے لیے۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف نیوٹریشنل سائنس میں شائع ہوئے۔ اس سے قبل ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایک مخصوص وقت سے پہلے ناشتہ کرلینا موٹاپے سے بچانے یا اس سے نجات کے لیے مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ہروقت تھکاوٹ کا سبب بننے والی 13 عادتیں تحقیق میں بتایا گیا۔

ناشتہ نہ کرنے کی عادت نہ صرف موٹاپے بلکہ مختلف امراض جیسے ذیابیطس ٹائپ ٹو، بلڈ پریشر اور امراض قلب وغیرہ کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ ناشتہ کرنے سے کھانے کے بعد کے گلوکوز اور انسولین کے ردعمل کو ریگولیٹ کرنے میں مدد ملتی ہے جبکہ گلیسمیک کنٹرول بہتر ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق صبح ساڑھے 9 بجے سے پہلے ناشتہ کرنا میٹابولزم ریٹ

کو بہتر کرکے جسمانی وزن میں کمی میں مدد دیتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ ناشتہ نہ کرنا نہ صرف میٹابولزم کو متاثر کرتا ہے بلکہ جسمانی سستی کا باعث بھی بنتا ہے کیونکہ دماغ کو اپنے افعال کے لیے ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے اور ناشتہ نہ کرنے پر وہ دن کے کسی بھی حصے میں کسی بھی چیز کی خواہش کرنے لگتا ہے، جس سے طویل المعیاد بنیادوں پر وزن بڑھتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…