ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

یہ چیز بھی شوگر کی وجہ بن سکتی ہے ،جدید تحقیق میں حیران کن انکشافات

datetime 9  جولائی  2018 |

میسوری(مانیٹرنگ ڈیسک) بظاہر فضائی آلودگی اور ذیابیطس کے مرض کے درمیان دور دور تک کوئی تعلق نظر نہیں آتا لیکن اب ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آلودگی بھی ذیابیطس کی وجہ بن سکتی ہے۔اس سے قبل عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) نے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ فضائی آلودگی سے ہر سال سانس، پھیپھڑوں کے کینسر، امراضِ قلب اور دیگر بیماریوں سے لاتعداد اموات ہورہی ہیں۔ لیکن اب اس کا ذیابیطس سے بھی تعلق دریافت ہوا ہے۔

سینٹ لوئی میں واقع واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن نے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر فضائی آلودگی اور ذیابیطس کے درمیان تعلق کا انکشاف کیا ہے۔ یہ تحقیق لینسٹ پلانیٹری ہیلتھ نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں امریکی فوجیوں کا ساڑھے آٹھ سال تک مطالعہ کیا گیا ہے جو ذیابیطس کے شکار نہ تھے۔اس مطالعے میں کئی ماڈلوں پر تحقیق کی گئی ہے جن میں فضا میں سوڈیم کی موجودگی اور نچلے اعضا میں فریکچر کو بھی نوٹ کیا گیا ہے۔ اس بنا پرماہرین نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی سے ہر سال 32 لاکھ افراد ذیابیطس میں مبتلا ہورہے ہیں۔ تحقیق کے سینئر محقق زائد ال علی نے کہا، ’ہماری تحقیق بتاتی ہے کہ پوری دنیا میں فضائی آلودگی اور ذیابیطس کے درمیان گہرا تعلق تھا۔ یہاں تک کہ ڈبلیو ایچ او اور امریکی محکمہ ماحولیات کے تعین کردہ آلودگی کے کم معیار پر بھی ذیابیطس لاحق ہوسکتی ہے۔اب تک ماہرین ذیابیطس اور آلودگی کے درمیان تعلق کو سمجھ نہیں سکے ہیں۔ تاہم آلودگی کے اجزا سانس کے ذریعے جسم کے اعضا اور ٹشوز تک میں جذب ہوجاتے ہیں۔ اس طرح سے جسم میں انسولین کی حساسیت متاثر ہوتی ہے جس سے لوگ شوگر کے مرض میں مبتلا ہورہے ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غریب ممالک اس سے زیادہ لوگ متاثر ہورہے ہیں جن میں بھارت اور انڈونیشیا جیسے ممالک شامل ہیں جبکہ کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک میں یہ شرح بہت کم ہے کیونکہ وہاں فضائی آلودگی قدرے کم ہے۔ دوسری جانب آلودگی کی کم ترین سطح بھی انسانوں میں ذیابیطس پیدا کرسکتی ہے۔پوری دنیا میں ہوا کے معیار کا ایک ڈیٹا بیس بنایا گیا ہے اور 2018 کا قدرے اضافی ڈیٹا بیس ظاہر کرتا ہے کہ دنیا کے 80 فیصد شہروں میں ہوا کا معیار بہت برا ہے جو کسی بھی طرح ڈبلیو ایچ او کے معیارات کے تحت نہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…