بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

یومیہ نصف آم کھانے کے یہ فوائد جانتے ہیں؟

datetime 27  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) آموں کو جہاں پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے، وہیں یہ پھل کھانے میں لذیذ اور کئی حوالے سے صحت کے لیے فائدہ مند بھی ہوتا ہے۔ اگرچہ ماضی میں ہونے والی مختلف تحقیقات میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ آم میں ایسی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو انسان میں کینسر کے جراثیم کو پیدا ہونے سے روکتی ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یومیہ آم کا نصف حصہ کھانے سے آپ کی صحت پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

آم کھانے کا یہ فائدہ جانتے ہیں؟ ماہرین صحت اور غذائی ماہرین کے مطابق آم میں ایسی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو نہ صرف کینسر کے جراثیم پیدا ہونے سے تحفظ دیتی ہیں، بلکہ یہ ذیابیطس کو بھی جنم لینے سے روکتی ہیں۔ غذائی ماہرین کے مطابق اگرچہ آم کا شیک بناکر پینے سے انسان کے جسم میں شوگر کا لیول بڑھ جاتا ہے اور ذیابیطس بڑھ جانے کا خطرہ ہوتا ہے، تاہم آم کھانے سے انسان کا شوگر لیول کنٹرول میں رہتا ہے۔ اگرچہ آم ذائقے میں میٹھا ہوتا ہے، جس سے یہ گمان ہوتا ہے کہ شاید اس میں شوگر کا لیول زیادہ ہو، تاہم ماہرین کے مطابق ایسا نہیں ہے۔ کچے آموں کو غذا کا حصہ کیوں بنانا چاہیے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ آم میں پائی جانے والی کاربوہائیڈریٹس، فائبر، وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسائیڈنٹس کی خصوصیات کی وجہ سے یہ پھل کئی حوالوں سے صحت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں یومیہ آم کا نصف حصہ کھانے والے افراد میں جہاں ذیابیطس کے خطرات کم ہوتے ہیں، وہیں ان کا نظام ہاضمہ بھی درست ہوتا ہے۔ یومیہ آم کا ایک سلائس کھانے والے افراد کو وٹامن سی کی بھی مطلوبہ مقدار مل جاتی ہے، جو کئی حوالوں سے صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ ماہرین کے مطابق آم کے سیزن میں ہر انسان کو کم سے کم یومیہ ایک آم لازمی کھانا چاہیے، کیوں کہ اس سے نہ صرف ذیابیطس اور نظام ہاضمہ درست ہوتا ہے، بلکہ یہ آنکھوں کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔ یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…