بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سانس میں بو سے نجات دلانے میں مددگار طریقے

datetime 19  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سانس میں بو کسے پسند ہوسکتی ہے؟ یقیناً اس سے پوری شخصیت کا تاثر خراب ہوجاتا ہے۔ مگر یہ بو پیدا کیوں ہوتی ہے اور اس کی وجہ کیا ہے؟بنیادی طور پر تمام غذائیں منہ کے اندر ٹکڑوں میں تبدیل ہوتی ہیں اور اگر آپ تیز بو والی غذائیں جیسے لہسن یا پیاز کھاتے ہیں تو دانتوں کی صفائی یا ماؤتھ واش بھی ان کی بو کو عارضی طور پر ہی چھپا پاتے ہیں۔

اور وہ اس وقت تک ختم نہیں ہوتی جب تک یہ غذائیں جسم سے گزر نہ جائیں۔ اگر روزانہ دانتوں کو برش نہ کیا جائے تو خوراک کے اجزاءمنہ میں باقی رہ جاتے ہیں، جس سے دانتوں کے درمیان، مسوڑھوں اور زبان پر جراثیموں کی تعداد بڑھنے لگتی ہے جو سانس میں بو کا باعث بنتے ہیں۔ وجوہات یہاں جانیں : سانس میں بو کیوں پیدا ہوتی ہے؟ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سے نجات اتنی مشکل نہیں ہوتی، ایسے ہی کچھ طریقے درج ذیل ہیں۔ منہ کی صفائی زبان میں موجود بیکٹریا سانس میں بو کی بڑی وجہ بنتے ہیں، اپنی زبان کو ٹوتھ برش یا زبان صاف کرنے والے ٹول سے روزانہ صاف کرکے اس مسئلے سے بچا جاسکتا ہے، اسی طرح دن بھر میں 2 بار برش اور خلال کرنا بھی سانس میں بو سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ پانی مناسب مقدار میں پینا جسم میں پانی کی مناسب مقدار منہ کی صحت کے لیے بہت ضروری ہے، پانی کی کمی یا ڈی ہائیڈریشن کے نتیجے میں منہ کے مختلف امراض کا خطرہ بڑھتا ہے جن میں سانس کی بو بھی قابل ذکر ہے، تو مناسب مقدار میں پانی پینا عادت بنالینا بھی سانس کو بدبو دار ہونے سے بچاسکتا ہے۔ سانس میں بو کا باعث بننے والی بڑی وجہ سامنے آگئی ایک سیب کھالیں اس پھل میں پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو منہ میں لعاب دہن کی مقدار بڑھاٹا ہے، جس سے سانس کی بو کا باعث بننے والے بیکٹریا ختم ہوجاتے ہیں۔ چائے طبی ماہرین کے مطابق صبح کے وقت منتخب کردہ مشروب بھی سانس میں بو سے نجات دلانے میں مدد دے سکتا ہے ۔اس کے لیے سبز چائے یا بغیر دودھ کی چائے کا استعمال فائدہ مند ہوتا ہے، جس کی وجہ ان مشروبات میں پولی فینولز کی موجودگی ہے جو کہ منہ میں بیکٹریا اور سلفرکمپاﺅنڈ کو کم کرتا ہے۔ چیونگم سے مدد لیں اگر تو سانس میں بو سے پریشان ہیں تو اس سے نجات کے لیے چیونگم سے بھی مدد لی جاسکتی ہے اور ہاں تمباکو نوشی کا استعمال بھی سانس میں بو کا باعث بنتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…