بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

پلاسٹک کو ٹھکانے لگانے کاحل تلاش

datetime 16  اپریل‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)امریکی اور برطانوی ماہرین نے دعوی کیا ہے کہ وہ ایسا انزائم دریافت کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ جو پلاسٹک کھاجاتے ہیں،اس کے بعد اب پلاسٹک سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی کو قابو پانے میں مدد ملے گی ۔برطانوی یونیورسٹی اور امریکی ادارے کی مشترکہ ٹیم نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے جاپان میں دریافت ہونے والے ایک بیکٹریم پر تحقیق کے دوران یہ بات دریافت کی کہ یہ بیکٹیریم ایک خاص قسم کے پلاسٹک کو بطور غذا استعمال کرتا ہے ۔

اسی بیکٹریم سے نکلنے والے ایک انزائم پر تحقیق کے دوران اتفاقیہ طور پر یہ انکشاف ہوا کہ یہ پلاسٹک کو ختم کرنے میں اس سے بھی بہتر انداز میں کام کرتا ہے ۔اس انزائم کو بڑے پیمانے پر استعمال کرکے ماحول پر پلاسٹک سے ہونے والے اثرات پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔پلاسٹک کا کچرا ہمارے ماحول کو تباہ کرنے والا سب سے خطرناک عنصر ہے جس میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔اب تک یہ سمندروں اور زمین کی سطح پر جمع ہو کر ہر شے کو ناقابل تلافی نقصانات پہنچا رہا تھا۔ایک تحقیق کے مطابق یہ زمین پر پائی جانے والی مٹی کے اندر بھی موجود ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…