منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

صفائی کے لیے استعمال ہونے والے وائپس کس بیماری کا باعث بن سکتے ہیں ،نئی تحقیق میں سب کچھ سامنے آگیا

datetime 12  اپریل‬‮  2018 |

نیویارک(سی ایم لنکس)شیر خوار بچوں کی صفائی ستھرائی کے لیے صابن کے بجائے وائپس کا استعمال عام ہے تاہم نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ’گیلے وائپس‘ بچوں میں ’فوڈ الرجی‘ کا باعث بنتے ہیں۔سائنسی جریدے جرنل آف الرجی اینڈ کلینیکل امینولوجی میں شائع ہونے والے تحقیقی مقالے میں پروفیسر جان کوک ملز کا کہنا ہے کہ الرجی کی سب سے تکلیف دہ اور پیچیدہ قسم ’فوڈ الرجی‘ کا باعث جنیاتی فیکٹر کے علاوہ بھیگے ہوئے وائپس کا استعمال ہے جو جلد سے خشک نہیں ہو پاتے اور جلد کی جذب کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں۔

جلد کے جذب کرنے کی صلاحیت ختم ہونے سے فوڈ الرجی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔نومولود کی نمو کے لیے روزانہ کی بنیاد پر صفائی ستھرائی کا عمل نہایت ضروری ہے جس کے لیے عمومی طور والدین ’ کیمیکل میں بھیگے ہوئے وائپس‘ استعمال کرتے ہیں۔ وائپس کی تیاری میں کیمیکل استعمال کیا جاتا ہے جب کہ وائپس کو گیلا رکھنے والے کیمیکل میں صابن بھی شامل ہو تا ہے جسے بچوں کی جلد سے خشک نہیں کیا جائے تو جلد کے مسام بند ہوجاتے ہیں اور جلد جذب کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں اور جلد کی جذب کرنے کی صلاحیت ختم ہو جانے سے ’فوڈ الرجی‘ کا مرض لاحق ہو جاتا ہے۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جن شیر خوار بچوں کی جلد میں جذب کرنے کی صلاحیت متاثر ہوجاتی ہے وہ بالغ ہونے کے بعد فوڈ الرجی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ 1997ء سے 2007ء تک کا ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ امریکا میں 4 سے 6 فیصد بچے فوڈ الرجی کا شکار ہیں جن میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ بچوں میں وائپس کا استعمال ہے۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…