بدھ‬‮ ، 22 اپریل‬‮ 2026 

عام دودھ دل کی صحت کے لیے بہتر؟

datetime 3  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسکم ملک (بالائی نکلا دودھ) بہتر ہوتا ہے یا عام چکنائی یا ملائی والا دودھ ؟ یہ وہ سوال ہے جو کافی ذہنوں میں ابھرتا ہے۔ اس سوال کا جواب ڈنمارک میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔ کوپن ہیگن یونیورسٹی کی تحقیق نیں بتایا گیا کہ اگرچہ سمجھا جاتا ہے کہ اسکم ملک کھلے دودھ کا صحت مند متبادل ہے مگر شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ بازار میں ملنے والے اس چکنائی والے دودھ کے طبی فوائد اپنے متبادل سے زیادہ ہیں۔

مزید پڑھیں : کچا دودھ پینا صحت کے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ؟ تحقیق کے مطابق چکنائی والا دودھ دل کے لیے اسکم ملک کے مقابلے میں ممکنہ طور پر زیادہ بہتر انتخاب ہوسکتا ہے۔ اس تحقیق کے دوران دونوں اقسام کے دودھ کے دوران میں پائے جانے والے صحت کے لیے فائدہ مند سمجھے جانے والے کولیسٹرول ایچ ڈی ایل کی سطح پر مرتب اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ جسم میں ایل ڈی ایل نامی کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ امراض قلب، فالج اور شریانوں کے امراض کا خطرہ بڑھاتے ہیں جبکہ ایچ ڈی ایل کولیسٹرول اس سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ تحقیق کے مطابق عام دودھ یا فل فیٹ ملک ملائی سے پاک دودھ سے بدتر نہیں بلکہ زیادہ صحت بخش ہوسکتا ہے۔ تحقیق میں کہا گیا کہ دہائیوں سے کہا جارہا ہے کہ کم چربی والا دودھ استعمال کیا جانا چاہئے کیونکہ وہ جسم میں ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح بڑھاتا ہے مگر نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے یورپین جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہوئے۔ اس سے قبل امریکا میں پندرہ برس کے عرصے تک جاری رہنے والی تحقیق کے دوران محققین نے دریافت کیا کہ جو لوگ زیادہ چکنائی والا دودھ استعمال کرتے ہیں، ان میں ذیابیطس کا خطرہ 46 فیصد تک کم ہوتا ہے۔ تحقیق میں کہا گیا کہ ایسے انسانی شواہد نہیں ملے کہ جو لوگ کم چکنائی والا دودھ استعمال کرتے ہیں وہ صحت کے لحاظ سے کھلا دودھ استعمال کرنے والوں سے زیادہ فائدہ حاصل کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : 5 کھانے جن میں دودھ سے زیادہ کیلشیم موجود اس کے مقابلے میں ایسے شواہد ضرور ملیں کہ چکنائی والا دودھ ذیابیطس کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور لوگوں کو اسکم ملک کا مشورہ دینا کچھ اتنا زیادہ فائدہ مند نہیں۔ اس سے قبل ایک اور تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ زیادہ چکنائی والا دودھ استعمال کرنے والے افراد میں موٹاپے کے شکار ہونے کی شرح دیگر افراد کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔ یہ نئی تحقیق امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے جریدے جرنل سرکولیشن میں شائع ہوئی۔ نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم(تیسرا حصہ)


ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…