جمعرات‬‮ ، 16 اپریل‬‮ 2026 

بے وقت بھوک لگنے پر کبھی یہ چیز نہ کھائیں

datetime 15  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سموسے کھانا کس کو پسند نہیں ہوگا، پاکستان میں تو بے وقت بھوک کو مٹانے کے لیے اسے بہت شوق سے کھایا جاتا ہے۔ اگر آپ کو بھی اسے کھانا پسند ہے تو کبھی سوچا کہ صحت کے لیے فائدہ مند ہے یا کہیں مختلف امراض کا باعث تو نہیں بنتا؟ کبھی کبھار اسے کھانا تو ٹھیک ہے مگر اسے عادت بنالینا درحقیقت متعدد طبی مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ جی ہاں واقعی سموسے صحت کے لیے

نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ مزید پڑھیں : پکوان کہانی: سموسہ میدے کا استعمال سموسے میدے سے تیار کیے جاتے ہیں اور یہ جز صحت کے لیے کسی قسم کے فائدے کا حامل نہیں، بلکہ اسے زیادہ مقدار میں جزو بدن بنانا میٹابولک امراض، بلڈ شوگر کی سطح میں اضافے، جسمانی وزن میں اضافے اور امراض قلب کا باعث بن سکتا ہے۔ بہت زیادہ گھی کا ہونا سموسے کے ہر ٹکڑے کا منفرد مزہ گھی کی بدولت ہوتا ہے، اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ضرورت سے زیادہ گھی کا استعمال صحت کے لیے کتنا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ٹرانس فیٹ اگر طبی ماہرین کسی غذا کو سب سے نقصان دہ قرار دیتے ہیں تو وہ ٹرانس فیٹس ہیں، جو صحت کو تو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے بلکہ صحت کو مسلسل نقصان پہنچاتے ہیں جو کہ توند نکلنے کا باعث بھی بنتا ہے جوکہ آج کل بیشتر افراد کا بڑا مسئلہ ہے جبکہ ہائی بلڈ پریشر اور امراض قلب کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ڈیپ فرائی سموسوں کو کئی بار تیل میں تلا جاتا ہے تاکہ انہیں گرم رکھا جاسکے، جب تیل کو کوئی چیز ڈیپ فرائی کی جاتی ہے تو ایسے ٹرانس فیٹ بنتے ہیں جو کینسر کا باعث بھی سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی بیمار ہوتا ہے تو ڈاکٹر سب سے پہلے تلی ہوئی اشیاءسے دوری کا مشورہ دیتے ہیں۔ بہت زیادہ نمک سموسے کے پیڑے اور اس میں بھرے جانے والے بھرتے سب میں نمک بہت زیادہ مقدار میں ہوتا ہے تاکہ اسے ذئاقہ دار بنایا جاسکے۔ اگر اتنا نمک روز جسم کا حصہ بنے تو نیند

کے مسائل، جلد کی خرابی، بلڈ پریشر اور دیگر متعدد مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ بھی پڑھیں : نمک جسم پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے؟ کاربوہائیڈریٹس کی بھرمار میدہ اور آلو سموسے کے لازمی اجزاءہیں اور جب آلوﺅں کو بہت زیادہ گھی، نمک اور میدے کے ساتھ تلا جاتا ہے تو وہ صحت بخش نہیں رہتے۔ بہت زیادہ کیلوریز سموسوں میں بہت زیادہ چیزیں ہوتی ہیں تاکہ بے وقت بھوک کی تشفی ہوسکے

اور اسے خوب تلا بھی جاتا ہے جس کے نتیجے میں کیلوریز بہت زیادہ بڑھ جاتی ہیں، ہوسکتا ہے کہ آپ کو لگے روزانہ یا ایک دن چھوڑ کر ایک سموسہ کھانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، مگر یہ غلط فہمی ہے، اس کے نتیجے میں موٹاپے کا امکان بڑھ جاتا ہے خاص طورپر توند نکلنے کا امکان تو بہت زیادہ ہوتا ہے۔ کن امراض کا خطرہ بڑھتا ہے؟ اگر اسے روز یا ہفتے میں ایک بار بھی کھانا عادت بنالیا جائے تو بھی ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، خون کی شریانوں کے مسائل وغیرہ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…