پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

لمبی زندگی کا انتہائی منفرد راز سامنے آگیا، 147سال کی عمر پانےوالا سعودی شخص جس نے پوری زندگی یہ ایک کام نہ کیا جس کا پاکستانیوں کو بے حد شوق ہے

datetime 14  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ ہفتے طویل العمر سعودی شہری شیخ العلقمی جن کی عمر 147برس تھی کے انتقال کی خبر سعودی میڈیا پر نمایاں طور پر نشر اور شائع کی گئی۔ شیخ العلقمی کا تعلق سعودی عرب کے صوبہ ابہا سے تھا ۔ ان کی لمبی عمر کے راز سے متعلق سعودی گزٹ میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق شیخ العقمی ساری عمر اپنے کھیتوں سے حاصل ہونے والی خالص

اور ساسدہ غذا کھاتے رہے اور بازاری کھانے کے کبی قریب نہ گئے۔ وفات سے چند سال قبل ایک اخبار کو دئیے گئے انٹرویو میں عمر رسیدہ شخص نےاپنے طرز زندگی کے حوالے سے حیران کن باتیں بتائی تھیں۔انٹرویو میں علی بن محمد نے بتایا تھا کہ وہ زندگی میں کبھی اسپتال میں داخل نہیں ہوا کیونکہ وہ اپنے گھر میں ہی سبزیاں اور پھل اگا کر کھاتا ہے اس کے علاوہ زندگی بھر چینی سے بننے والی غذائیں استعمال نہیں کیں۔ ایک اور عمل جو ان کی طویل صحت کا سبب بنا وہ ان کا روزانہ نمازِ عشاء کی ادائیگی کے بعد سونا اور فجر سے پہلے اٹھ کر تہجد کے نوافل ادا کرنا تھا۔ علاوہ ازیں وہ زندگی بھر سیدھی کروٹ سوتے تھے۔علی بن محمد نے بتایا کہ اپنی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر انہوں نے آبائی علاقے میں 4 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرکے نماز جمعہ ادا کی تھی۔سعودی گزٹ کے مطابق شیخ العلقمی نے علی بن محمد بن عائد، عبداللہ بن محمد بن عائد اور حسن بن عائد کے ادوار بھی دیکھے۔ جب کنگ عبدالعزیز نے صوبہ عسیر کو سعودی عرب کا حصہ قرار دیا تو ان کی عمر 38 سال تھی۔ ان کے قریبی عزیز یحیٰی العقلمی نے بتایا کہ شیخ علی ہمیشہ اپنے کھیتوں میں اُگایا گیا اناج، گندم، مکئی، جو اور دیگر اشیاءکھاتے تھے جبکہ شہد کا باقاعدی سے استعمال ضرور کرتے تھے۔ گوشت بھی صرف وہی کھاتے تھے جو اپنے گھر میں پالے ہوئے جانوروں سے حاصل کیا جاتا تھا۔

باہر کہیں بھی جاتے تو کھانے پینے میں بہت احتیاط سے کام لیتے اور خصوصاً بازار کی اشیاءتو کبھی نہیں کھاتے تھے۔ وہ تمام عمر اچھی صحت کے مالک رہے اور کوئی سنگین بیماری لاحق نہیں ہوئی تاہم حال ہی میں جب انہیں دماغ کا فالج ہوا تو یہ جان لیوا ثابت ہوا اور وہ 147سال کی عمرمیں دنیا سے رخصت ہوگئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…