منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

گریوں کو کھانا مختلف امراض کا خطرہ کم کرے

datetime 13  جنوری‬‮  2018 |

اسپین (مانیٹرنگ ڈیسک) ہفتہ بھر میں تین بار کچھ مقدار میں بادام، اخروٹ، پستہ ، مونگ پھلی سمیت کسی بھی قسم کی گریاں کھانا عادت بنانا مختلف امراض سے موت کا خطرہ نمایاں حد تک کم کردیتا ہے۔ یہ بات اسپین میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ بارسلونا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ہفتہ بھر میں تین بار گریوں کو

کھانا مختلف امراض سے قبل از وقت موت کا خطرہ 39 فیصد تک کم کردیتا ہے۔ مزید پڑھیں : گریاں، مچھلی اور انڈے کی زردی بچوں کیلئے بہتر تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ عادت امراض قلب، خون کی شریانوں کے مسائل (ہارٹ اٹیک اور فالج) اور ذیابیطس وغیرہ سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اور یہ بات تو پہلے ہی سامنے آچکی ہے کہ گریاں کھانا جسمانی وزن کو مستحکم رکھنے میں مدد دیتا ہے یا موٹا نہیں ہونے دیتا۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ گریوں کا استعمال خون کی شریانوں کے مسائل سے موت کے خطرے کو پچپن 55 فیصد، کینسر کا 40 فیصد تک کم کردیتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ ان گریوں سے دور رہنے والوں کے مقابلے میں انہیں کھانے والوں میں مختلف امراض سے موت کا خطرہ 39 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گریاں مونوسچورٹیڈ فیٹی ایسڈز، فائبر، منرلز، وٹامنز اور دیگر اجزاءسے بھرپور ہوتی ہیں اور صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہیں۔ یہ بھی پڑھیں : گریوں کے فوائد اور پکوان تحقیق کے مطابق یہ عادت انسولین کی مزاحمت کم کرکے ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم کرتی ہے جبکہ جسمانی وزن میں کمی بھی مختلف امراض سے تحفظ دیتا ہے۔ اسی طرح ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار افراد اگر بادام کھانا عادت بنالیں تو ان کے دل کی صحت بہتر ہوتی ہے اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ذیابیطس کے نتیجے میں امراض قلب کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…