اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

گیم کھیلنے کو عالمی ادارہ صحت نے بیماری تسلیم کرلیا

datetime 2  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے لوگوں کی خراب عادتوں اور مسائل سمیت مجموعی طور پر سماجی خرابیوں کے 11 اقسام کو ایک بیماری کے طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ عالمی ادارہ صحت نے جن 11 عادتوں ،برائیوں اور مسائل کو بیماری ماننے کا فیصلہ کیا ہے، اس میں گیم کھیلنا بھی شامل ہے۔ عالمی ادارہ صحت جلد ہی آن لائن سمیت اسمارٹ آلات پر کھیلی جانے والی ہر طرح

کی گیم کو ایک بیماری تسلیم کیے جانے کا باقاعدہ اعلان بھی کرے گا۔ یہ بھی پڑھیں: موبائل فون گیم کی عادت نے کیا بینائی سے محروم عالمی ادارہ صحت نے 11 عادات، خرابیوں اور مسائل کو بیماری تسلیم کیے جانے سے متعلق حتمی ڈرافٹ تیار کرلیا، جسے رواں برس کی پہلی سہ ماہی سے قبل منظور کیا جائے گا۔ اس ڈرافٹ میں جن 11 عادتوں، برائیوں یا مسائل کو بیماری تسلیم کیے جانے کی سفارش کی گئی ہے، اس میں ’گیمنگ ڈس آرڈر‘ کو بھی ذہنی بیماری کے زمرے میں شمار کیے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔ گیم کھیلنے کوذہنی بیماری میں شامل کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہر طرح کی آن لائن اور ویڈیو گیم کھیلنے والوں سمیت اسمارٹ آلات پر گیم کھیلنے والے افراد کو ذہنی مریض شمار کیا جائے۔ مزید پڑھیں: خطرناک ویڈیو گیم ’بلیو وہیل‘ سے متعلق اہم حقائق ڈرافٹ میں کہا گیا کہ گیم کھیلنے والے افراد ذہنی مسائل کا شکار ہوتے ہیں، تاہم اگر کوئی بھی شخص مسلسل ایک سال تک گیم کھیلنے کی لت میں مصروف رہے تو اسے ’گیمنگ ڈس آرڈڑ‘ کا مریض سمجھا جائے۔ غیر منظور شدہ ڈرافٹ کے مطابق گیم کھیلنے والے افراد کے ذہنی مسائل کے شکار ہونے کی مختلف نشانیاں ہوسکتی ہیں، کم وقت کے لیے گیم کھیلنے والا شخص بھی دماٰغی خلل میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ اس ڈرافٹ میں ڈپریشن، انزائٹی، موڈ، نیوٹریشن اور ہاضمے سمیت کیٹالونیا جیسے مسائل کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…