منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

غدود کے عارضے میں مبتلا مریضوں کیلئے خوشخبری

datetime 10  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور(این این آئی) غدود کے عارضے میں مبتلا افراد کیلئے بہت بڑی خوشخبری ، لاہور جنرل ہسپتال میں پراسٹیٹ کے جدید طریقہ علاج بپولر ٹرپ کی مشین نے گردہ و مثانہ وارڈ میں کام شروع کر دیا جس سے خاص طور پر ان مریضوں کو علاج معالجے میں فائدہ ملے گا جو دل کے عارضے میں مبتلا ہیں یا انہیں پیس میکر لگے ہوئے ہیں ،ایل جی ایچ شعبہ یورالوجی میں پروفیسر ڈاکٹر محمد نذیر کی کاوشوں سے ہسپتال کیلئے 30لاکھ روپے کی یہ

مشین عطیہ کی گئی ہے جس سے 4مریضوں کا کامیاب علاج جدید طریقے سے کیا جا چکا ہے جبکہ سالانہ 240مریض اس مشین سے مکمل علاج کیلئے مستفید ہوںگے اور نجی شعبے میں3لاکھ روپے کے لگ بھگ ہونے والے اخراجات کی بھی بچت ہو گی- پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسرغیاث النبی طیب نے اس کامیابی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دکھی انسانیت کی خدمت کرنے والے دنیا اور آخرت دونوں سنوار لیتے ہیں اس مشین کا عطیہ کیا جا نا سینکڑوں لوگوں کیلئے فائدہ مند ثابت ہو گا اور اس ضمن میں پروفیسر ڈاکٹر محمد نذیر کی کوششیں بھی لائق تحسین ہیں ،انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ ہر شعبے میں نمایاں پیش رفت کر رہا ہے اور ضلع لاہور کے علاوہ پنجاب بھر سے آنے والے مریضوں کو پنجاب حکومت کی ترجیح کے مطابق زیادہ سے زیادہ بہتر طبی سہولتیں مہیا کی جا رہی ہیں ۔پروفیسر آف یورالوجی ڈاکٹر محمد نذیر نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ طریقہ علاج مریضوں کیلئے بڑی امید اور نئی زندگی ثابت ہو گا ،انہوں نے کہا کہ لاہور جنرل ہسپتال میں جدت کی روائت کو برقرار رکھا جا رہا ہے اور پراسٹیٹ کے علاج میں اس طریقے کو اپنانے سے ایک طر ف کم سے کم خون ضائع ہوتا ہے تودوسری طرف مریض24گھنٹے میں صحت مند ہو کر اپنے گھر جا سکتا ہے ،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی مریضوں کی بہتر سے بہتر خدمت کیلئے کاوشیں جاری رکھی جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…