منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

کھلے دودھ پر مکمل پابندی، حکومت نے بڑا فیصلہ کرلیا

datetime 6  دسمبر‬‮  2017 |

لا ہور(این این آئی) پنجاب فوڈ اتھارٹی نے کھلے دودھ پر مکمل پابندی عائد کرنے کے لیے پاسچرائزیشن قانون پاس کروانے کے بعداب پاسچرائزیشن عمل کو لاگ کرنے کے لیے تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب فوڈاتھارٹی اور یونیورسٹی آف ویٹنری اینڈا ینیمل سائنسزکے زیر اہتمام پاسچرائزیشن کے حوالے سے مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں کھلے دودھ پر پابندی کی تائید، پاسچرائزیشن عمل اپنانے اور اس حوالے سے تمام سٹیک ہولڈرزنے اپنا اپناکردار

ادا کرنے پر اتفاق کیا۔مشاورتی اجلاس میں پاسچرائزیشن عمل کوہی کھلے دودھ کا واحد متبادل تسلیم کرتے ہوئے پنجاب فوڈ اتھارٹی پاسچرائزیشن قانون کی مکمل تائید کی گئی اورآئندہ 5 سال کے اندر کھلے ،غیر معیاری دودھ پر مکمل پابندی لگا نے کی حمایت کی اور عوام کو حفظانِ صحت کے مطابق معیاری دودھ بہترین پیکنگ میں مہیا کرنے کے لیے اجتماعی کوشش کرنے پر اتفاق کیا۔اجلاس کی صدارت ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل اوروائس چانسلر یونیورسٹی آف ویٹنری اینڈا ینیمل سائنسز پروفیسرڈاکٹر طلعت محمود پاشا،ملک انڈسٹری بشمول نیسلے، اینگرو، حلیب، ملک پیک ، فارمر ایسوسی ایشنز، پیکنگ انڈسٹری اور دیگرماہرین نے شرکت کی۔ اس حوالے سے ڈی جی فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل کا کہنا تھا کہ پاسچرائزیشن کا عمل ہی کھلے دودھ کا واحد متبادل ہے جس کے ذریعے عوام کو خالص، صحت مند اور معیاری دودھ کی فراہمی ممکن ہے۔ پاسچرائزڈ دودھ ابال کر پیک کیا جاتا ہے اور محفوظ طریقے سے صارف تک پہنچتا ہے۔انہوں نے مزید واضع کیا کہ کھلے دودھ کی بھاری مقدار اور صوبہ بھر میں اس کی ترسیل کے بڑے نظام کی بدولت اس کی مکمل حفاظت ممکن نہیں ہے ۔ خالص، صحت مند اور بہترین دودھ کی فراہمی صرف پاسچرائزیشن کے عمل سے ہی ممکن ہے اورپنجاب فوڈ اتھارٹی خالص دودھ کی فراہمی کے لیے تمام ذرائع بروئے کار لا رہی ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی پاسچرائزیشن قانون پاس کر چکی ہے اور 5 سال کے اندر کھلے ،غیر معیاری دودھ پر مکمل پابندی لگانے اور عوام کو حفظانِ صحت کے مطابق معیاری دودھ پیکنگ میں فراہم کرنے کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔اس موقع پر وی سی یو واس ڈاکٹر طلعت محمود پاشا نے اپنے خیالات کا ا ظہار کرتے ہوئے بتایا کہ دنیا کے ذیادہ تر ممالک میں پاسچرائزیشن کا عمل اپنایا جا چکا ہے اور پاکستان مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام سٹیک ہولڈرز اپنا کردار ادا کریں توپاسچرائزیشن عمل کو لانا مشکل نہیں ہے ۔انڈسٹری کے نمائندوں نے پاسچرائزیشن کی سہولت کو گاؤں کی سطح پرمتعارف کروانے اور اس کے ثمرات کسانوں تک پہنچانے اور حکومت پنجاب اور پنجاب فوڈ اتھارٹی سے مکمل تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…